عالمی خبریں

غزہ میں مستقبل کا فیصلہ اسرائیل کا ہوگا، حماس مذاکرات میں سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے: امریکی قیادت

خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ اسرائیل کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ غزہ میں اب کیا ہوگا کیونکہ حماس نے یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے جاری مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کرے، تاکہ جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کی کنجی حماس کے رویے میں لچک لانے سے مشروط ہے۔

حماس کے رہنما خلیل الحیا نے صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کا مکمل محاصرہ کر کے اسے فاقوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو غزہ کے عوام کی حالت زار کا نوٹس لینا ہوگا۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے غزہ میں غذائی قلت سے ہونے والی اموات کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کو غزہ کے عوام تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام شہریوں کو خوراک اور پانی سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے جنگ بندی نہ ہونے کو عالمی برادری کی ناکامی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صرف عارضی وقفے کافی نہیں، بلکہ فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ ڈیوڈ لیمی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غزہ میں امدادی سامان کی رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button