خلیج اردو
واشنگٹن، 5 جولائی
امریکی یومِ آزادی کے موقع پر جہاں آتش بازی، پریڈز اور خاندانی اجتماعات کا رنگ تھا، وہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور اقدامات نے دن کو سیاسی طور پر بھی غیر معمولی بنا دیا۔ سفید کیپ اور روایتی نعرے "Make America Great Again” کے ساتھ صدر ٹرمپ نے نہ صرف متنازعہ قانون پر دستخط کیے بلکہ ایک نایاب لمحے میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ رقص کرتے بھی دکھائی دیے۔
4 جولائی کی تقریبات کے دوران چار اہم لمحات نمایاں رہے، جنہوں نے نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کی توجہ حاصل کی:
ٹرمپ اور میلانیا کا رقص سوشل میڈیا پر وائرل
واشنگٹن ڈی سی کے آسمان پر آتش بازی کے دوران صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ایک ساتھ "Trump Dance” کیا — وہ مخصوص حرکات جو ٹرمپ "YMCA” گانے پر اکثر اپنے جلسوں میں کرتے ہیں۔ ان کے رقص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور تقریب کو ایک غیر متوقع جذباتی موڑ دیا۔
‘بگ، بیوٹی فل بل’ پر دستخط
صدر ٹرمپ نے 4 جولائی کو ایک متنازعہ ٹیکس اور اخراجاتی بل پر دستخط کر دیے، جسے انہوں نے ’’امریکہ کے لیے سالگرہ کا تحفہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل امریکہ کو دنیا کا ’’طاقتور ترین ملک‘‘ بنانے میں مدد دے گا۔
تاہم اس بل پر شدید تنقید بھی سامنے آئی، کیونکہ یہ 10 سال میں 3.4 ٹریلین ڈالر کے اضافی خسارے کا باعث بنے گا، وفاقی خوراک امداد اور میڈیکیڈ پروگرامز میں کٹوتی کرے گا، اور تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی راہ ہموار کرے گا۔
ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نے اسے ’’قابل نفرت، ظالمانہ اور غیر ذمہ دار بجٹ‘‘ قرار دیا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن نے بھی اس کی مذمت کی۔
12 ممالک کو ٹیرف لیٹرز
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے 12 ممالک کو نئے ٹیرف لیٹرز پر دستخط کیے ہیں، جن میں ان ممالک کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے امریکی شرائط نہ مانیں تو ان پر مزید بلند شرحوں سے درآمدی ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔
برطانیہ اور ویتنام کے ساتھ جزوی معاہدے طے پا چکے ہیں، لیکن بھارت اور یورپی یونین سے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
سفارتی کوششیں: غزہ، روس، یوکرین
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے غزہ جنگ بندی کے لیے ایک ’’آخری تجویز‘‘ دی ہے اور امید ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں میں حماس کی جانب سے جواب موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل جنگ بندی کی شرائط پر متفق ہو چکا ہے، اور اب بات حماس کے جواب کی ہے۔
اس کے علاوہ، ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی الگ الگ بات چیت کی۔ انہوں نے پیوٹن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’صرف قتل کرنا چاہتے ہیں‘‘ جبکہ زیلنسکی کے ساتھ گفتگو کو ’’اسٹریٹیجک‘‘ قرار دیا، جس کا مقصد یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔







