
خلیج اردو
دبئی: ترکیش ایئرلائنز نے بینک آف چائنا کے ساتھ 2.9 ارب یوان (تقریباً 412 ملین امریکی ڈالر) مالیت کا ایک اہم مالیاتی معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جو ایئرلائن کے طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی تنوع کی حکمتِ عملی کو مزید مستحکم کرے گا۔
یہ پانچ سالہ مالیاتی سہولت بینک آف چائنا ترکی اے.ایس. نے مرتب کی، جبکہ بی او سی مکاؤ برانچ نے بطور قرض دہندہ حصہ لیا۔ یہ معاہدہ ترکیش ایئرلائنز کے کلیدی منصوبوں جیسے بیڑے کی توسیع، کاروباری ترقی، اور استنبول ایئرپورٹ پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا۔
ترکیش ایئرلائنز کے چیف فنانشل آفیسر اور بورڈ ممبر ایسوسی ایٹ پروفیسر مراد شیکر نے کہا کہ یہ شراکت ایئرلائن کے پائیدار اور جامع ترقی کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔
ان کے مطابق، "ہم بینک آف چائنا کے ساتھ اپنے مالی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر خوش ہیں۔ یہ تعاون نہ صرف ترکیش ایئرلائنز کی مالی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ترکی اور چین کے درمیان اقتصادی و ثقافتی تعلقات کو بھی فروغ دیتا ہے۔”
معاہدہ ترکی اور چین کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعاون کو وسعت دینے کی مشترکہ حکمتِ عملی کے مطابق ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ اس امر کا مظہر ہے کہ ترکیش ایئرلائنز بین الاقوامی کریڈٹ مارکیٹس تک بڑھتی ہوئی رسائی حاصل کر رہی ہے، جبکہ چین عالمی ہوابازی کے مالیاتی شعبے میں اپنے کردار کو مستحکم کر رہا ہے۔
ترکیش ایئرلائنز، جو دنیا کے سب سے زیادہ ممالک تک پرواز کرنے والی ایئرلائن ہے، اپنے "2033 صدی جشن وژن” کے تحت بیڑے میں اضافہ، آپریشنل استعداد میں بہتری، اور پائیدار ہوابازی کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر گامزن ہے۔
ایئرلائن نے کہا کہ بینک آف چائنا کی یہ سہولت طویل المدتی اہداف کے حصول کے لیے مالی لچک فراہم کرے گی اور ترکیش ایئرلائنز کی حیثیت کو ایک عالمی نیٹ ورک ایئرلائن کے طور پر مزید مضبوط بنائے گی۔







