
خلیج اردو
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں یمن کے حوثی باغیوں نے باقاعدہ طور پر جنگ میں شامل ہو کر اسرائیل کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملوں سے ریڈار نظام متاثر ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور حکام نے آپریشنز بحال کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے 20 بیلسٹک میزائل اور 37 ڈرونز کو تباہ کر دیا، جبکہ حکام نے تصدیق کی کہ ملک میں صورتحال محفوظ ہے اور معمولات زندگی بحال کیے جا سکتے ہیں۔
حزب اللہ کے زیر اثر علاقوں میں لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تین صحافی جاں بحق ہو گئے، جبکہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 120 سے زائد کلسٹر بم ناکارہ بنا دیے، جو مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں استعمال کیے گئے تھے، جبکہ شیراز کے اطراف یہ کارروائیاں کی گئیں۔
اہم پیش رفت میں قطر اور یوکرین کے درمیان میزائل اور ڈرون دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی طے پایا، جبکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے اہم راستے باب المندب میں جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تو عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایرانی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کردار کو اہم قرار دیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنگ اب مزید ممالک تک پھیل رہی ہے اور اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی معیشت اور امن کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔






