خلیج اردو آن لائن:
ڈنمارک میں آبی نیولوں سے کورونا وائرس پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر مار کر دفنائے گئے آبی نیولے دوبارہ سے سطح زمین پر آگئے۔ تاہم، ڈنمارک کی حکومت کی طرف سے جعمے روز بتایا گیا ہے ان نیولوں کو دوبارہ سے زمین برد کرنا چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ اس ماہ کے شروع میں نیولوں سے کورونا وائرس پھیلنے کے باعث 12 افراد کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ڈنمارک حکومت نے فارمز میں رکھنے گئے نیولوں کو تلف کرنے حکم دیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق کورنا وائرس انسانوں سے ان نیولوں میں منتقل ہوا تھا اور پھر ان نیولوں سے انسانوں میں منتقل ہونے سے 12 افراد وائرس سے کا شکار ہوئے تھے۔ اور نیولوں سے پھیلنے والا کورونا وائرس تبدیل شدہ تھا۔
حکومت کے اس فیصلے کے بعد 17 ملین جانوروں کو تلف کیا گیا تھا۔ تاہم، اس حکم کے غیر قانونی ہونے کے بعد ڈنمارک کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے وزیر مورجنز جنسن نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
مردہ نیولوں کو مغربی ڈنمارک کے فوجی علاقے میں ایک اجتعماعی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ لیکن ان میں سینکڑوں دوبارہ سے سطح زمین پر آگئے ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے یہ مردہ نیولوں کے گلنے کے عمل سے بننے والی گیس کی وجہ سے کچھ نیولے زمین سے باہر نکل آئے ہیں۔
اس اجتعماعی قبر کی 24 گھنٹے حفاظت کے لیے گارڈ تعینات کیے گئے ہیں تاکہ انسانوں اور جانوروں اس جگہ کے قریب جانے سے روکا جائے۔ تاہم، اہل علاقہ کی جانب سے ممکن ہیلتھ رسک کی شکایت کی جارہی ہے۔
تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ قبروں سے کورونا پھیلنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن مقامی لوگ پانی کے آلودہ ہوجانے کے خطرے کو لے کر پریشان ہیں۔
Source: khaleej Times







