خلیج اردو آن لائن:
کراچی کی عدالت کے باہر کالے کوٹ پہنے وکلا کے درمیان سے اپنا رستہ بناتی ہوئی اپنے کلائنٹ کو تلاش کرتی یہ خاتون نیشا راؤ ہے۔
نیشا راؤ دیگر بہت سے سارے وکلا میں سے ایک وکیل نہیں ہے بلکہ نیشا پاکستان کی سب سے پہلی ٹرانس جینڈر وکیل ہیں۔ جنہوں نے سڑکوں پر بھیک مانگنے سے عدالت میں بطور ایک وکیل اپنا تعارف حاصل کرنے کے لیے ایک کٹھن راستے کا انتخاب کیا۔ جس میں وہ آج کامیاب ہیں اور اپنی برادری کے دیگر افراد کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
نیشا راؤ کی عمر 28 سال اور انہوں نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائڑز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ "مجھے پاکستان کی سب سے پہلی ٹرانس جینڈر وکیل ہونے پر فخر ہے”۔
پاکستان میں تیسری جنس کی اس براداری کے لیے زندگی قدرے مشکل ہے۔ اور 2009 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا تھا کہ ٹرانس جینڈرز اپنے شناختی کارڈ پر اپنی جنس کے لیے صرف تیسری جنس انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم، پاکستان کی پارلیمنٹ نے 2018 میں قانون سازی کے ذریعے تیسری جنس کو بھی مساؤی شہری تسلیم کیا ہے۔
پاکستان میں چونکہ تیسری جنس کو ایک پچھڑا ہوا طبقہ تصور کیا جاتا ہے لہذا سماجی سطح پر ان کے ساتھ سلوک بھی ویسا ہی ہوتا ہے اور بہت سارے ٹرانس جینڈر آئے روز جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور بھیک مانگنے اور شادیوں پر ڈانس جیسے کاموں میں پناہ تلاش کرتے ہیں۔
نیشا راؤ جب لاہور سے اپنے گھر سے بھاگ گئی تو اس نے بھی اپنی زندگی کا آغاز بھیک مانگنے کیا تھا۔
گھر سے بھاگ کر نیشا جب کراچی پہنچی تو اسے اسکی برادری کی دیگر ٹرانس جینڈرز نے اسے بھیک مانگنے اور سیکس ورکر بننے کا مشورہ دیا۔ نیشا راؤ ٹریفک سگنلز پر بھیک مانگتی رہی اور اپنی تعلیم کے لیے فیس اکٹھی کرتی رہی کیونکہ ایسی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا۔
وہ مسلسل کوشش کرتی رہی اور اسی کوشش کی بنا پر اس نے کئی سالوں بعد اپنی وکالت کی تعلیم مکمل کر لی اور اس سال وکالت کا لائسنس حاصل کرنے کے بعد کراچی بار ایسوسی ایشن کی رکن بن گئی۔
نیشا اب تک 50 مقدمات لڑ چکی ہے اور وہ این جی اوز کے ساتھ مل کر ٹرانس جینڈر برادری کے حقوق کے لیے بھی جدو جہد کر رہی ہیں۔
اس وقت نیشا کے موکل صرف تیسری جنس کے افراد ہی نہیں بلکہ دیگر کئی افراد اس کے پاس اپنے کیسز لے کے آتے ہیں۔
نیشا کا کہنا ہے کہ "میرا مقصد پاکستان کا پہلا ٹرانس جینڈر جج بننا ہے”۔
Source: Khaleej Times






