خلیج اردو
تحریر:حافظ عبدالماجد
آج میں ایک ایسے موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں جو بظاہر علم کہلاتا ہے لیکن عملی طور پر ایک دل لگی دل فریبی اور بعض اوقات دل جلانے والی مشق بن چکا ہے جی ہاں بات ہو رہی ہے علمِ نجوم کی وہی علم جس کے تحت ستاروں کی چال سے قوموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے اور زائچے کھنگال کر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس کی قسمت کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
اب اگر حالیہ دنوں کی بات کریں تو ہمارے ہاں عمران خان کی ممکنہ رہائی کا ذکر ہر زبان پر ہے لیکن یہ ذکر صرف سیاسی پنڈتوں یا قانونی ماہرین تک محدود نہیں بلکہ نجومی حضرات بھی ستاروں سیاروں اور چاند کی منازل میں خان صاحب کی آزادی تلاش کر رہے ہیں۔
ہر کوئی اپنا سا زائچہ لے کر سامنے آ گیا ہے جیسے کسی نے زہرہ کی حرکات میں انقلاب دیکھا تو کسی نے مریخ کی پسپائی کو امید کا پیغام سمجھا۔ لیکن خان صاحب بدستور قید ہیں اور قوم. وہ ہر ویڈیو پر تبصرہ کر رہی ہے بس اب رہائی قریب ہے
یہ سب کچھ دیکھ کر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہےکیا علمِ نجوم واقعی علم ہے، یا محض عوام کی امیدوں پر چمکتے کچھ جھوٹے ستارے؟
ایک طرف ملک سیاسی غیر یقینی کا شکار ہے، تو دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ہر بدلتی صورتحال کی تعبیر ستاروں، سیاروں اور زائچوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جی ہاں، بات ہو رہی ہے علمِ نجوم کی، جسے آج کل سوشل میڈیا پر دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان کی ممکنہ رہائی کے معاملے میں، ہر نجومی جیسے اپنی پیشگوئی کے ساتھ عدالت لگائے بیٹھا ہے۔کسی نے زحل کی چال کو رہائی کی نوید قرار دیا، تو کسی نے چاند کی منزلوں میں تبدیلی کی خبر سنائی۔ یوٹیوب پر ایک کے بعد ایک ویڈیو، دعوے، روحانی اشارے لیکن عمران خان اب تک قید میں ہیں، اور نجومی حضرات اب بھی اگلی تاریخ اگلی امید اور اگلے زائچے کی تیاری کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر نجومی کی پیشگوئی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ کوئی کہتا ہے عید سے پہلے بڑی خوشخبری آئے گی تو کوئی فرماتا ہے خان صاحب کی رہائی 27 رمضان کی رات متوقع ہے لیکن جب تاریخ گزر جاتی ہے، تو اگلی ویڈیو میں نیا زائچہ اور نیا بہانہ۔ عوام کو صرف تسلی دی جاتی ہے
دراصل مشتری کی رفتار میں اچانک رکاوٹ آ گئی تھی، اس لیے تاخیر ہو گئی
یہ طرزِ عمل نہ صرف عوامی شعور کے ساتھ مذاق ہے، بلکہ سنجیدہ قومی مسائل کو تماشہ بنانے کے مترادف بھی ہے۔ علمِ نجوم اگرچہ ایک قدیم علم ہے، لیکن موجودہ دور میں اسے جس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے، وہ علم کم اور یوٹیوب کی مارکیٹنگ زیادہ لگتا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ نجومیوں نے اپنے یوٹیوب چینلز پر عوام کی امیدوں کو کاروبار بنا لیا ہے۔ لاکھوں ویوز، ہزاروں تبصرے، اور ہزاروں روپے کی کمائی بس خان صاحب کی رہائی کی افواہ سے۔
قوموں کا مزاج تب ہی سنجیدہ ہوتا ہے جب وہ حقیقت، قانون، اور تجزیے کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ ستارے خوبصورت ہوتے ہیں لیکن ان پر قوموں کی قسمت کا دار و مدار رکھنا خود کو اندھیرے میں رکھنے کے مترادف ہے
اگر صورتحال کو غور کیا جائے تو عمران خان کی رہائی کا فیصلہ زائچوں میں نہیں، عدالتوں، سیاست اور طاقت کے مراکز میں ہو گا۔ نجومیوں کی پیشگوئیاں وقتی تسکین تو دے سکتی ہیں مگر حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے عقل دلیل اور تجزیہ ہی واحد راستہ ہے۔







