
خلیج اردو
ہالووین کا ذکر آتے ہی ذہن میں کدو سے بنے ہوئے جگمگاتے چہرے آ جاتے ہیں۔ دروازوں پر رکھے ہوئے جیک او لینٹرن، کیفیز میں کدو کے ذائقے والے مشروبات اور دکانوں میں نارنجی سجاوٹ — یہ سب ہالووین کی علامت بن چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کدو ہالووین کی پہچان کیسے بنے؟ اس کی جڑیں لوک کہانیوں، تاریخی رسومات اور قدیم عقائد میں پوشیدہ ہیں۔
قدیم دور میں ہالووین کی بنیاد "سامن” (Samhain) تہوار پر رکھی گئی تھی، جو فصل کی کٹائی کے اختتام اور سردیوں کے آغاز کی علامت تھا۔ لوگ آگ کے بڑے الاؤ جلا کر ارواح کو خوش آمدید کہتے اور موسم سرما کے لیے حفاظت کی دعائیں کرتے۔ آئرلینڈ کے علاقے "ہل آف وارڈ” (Hill of Ward) کو اس تہوار کا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں الاؤ جلائے جاتے اور ان کی چنگاریاں دوسرے دیہاتوں میں بھیجی جاتیں تاکہ اتحاد اور تحفظ کی علامت قائم رہے۔
یونیورسٹی کالج ڈبلن کے ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر اسٹیو ڈیوس کے مطابق "یہ جگہ جادوئی اور روحانی اہمیت رکھتی ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں شدید جلاؤ کے آثار ملے ہیں جو سامن کی رسومات سے جڑے ہو سکتے ہیں۔
جیک او لینٹرن کی ابتدا:
دلچسپ بات یہ ہے کہ "جیک او لینٹرن” کا لفظ شروع میں کدو کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ "اگنس فاتوئس” (Ignis Fatuus) یا "ول او دی وِسپ” (Will-o’-the-wisp) کہلانے والی انگریزی لوک کہانیوں کی پراسرار روشنیوں کے لیے بولا جاتا تھا، جو دلدلی علاقوں پر بھٹکتی نظر آتی تھیں۔ 1837 میں یہ اصطلاح پہلی بار تراشے گئے شلجم یا کدو کے لیے استعمال ہوئی۔
انیسویں صدی میں آئرلینڈ اور برطانیہ میں لوگ شلجم یا "مینگل ورزل” تراش کر ان میں چہرے بناتے تاکہ برے بھوتوں کو بھگا سکیں یا دوستوں کو ڈرا سکیں۔ یہی روایت بعد میں امریکہ پہنچی جہاں کدو، اپنی نرمی اور سائز کی وجہ سے، اس روایت کی مرکزی علامت بن گیا۔
آج یہ روایتی جیک او لینٹرن ہالووین کی سب سے پہچانی جانے والی علامت ہے — مزاح، شرارت اور تخلیقی اظہار کا حسین امتزاج۔
کدو آج ہر جگہ:
کدو اب صرف تراشنے تک محدود نہیں رہے۔ ہالووین کے موقع پر کدو سے بنے مشروبات، مٹھائیاں، سجاوٹ اور فوٹو کارنرز ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں بھی کیفیز، مالز اور ریستوران ہالووین کو خوشگوار انداز میں مناتے ہیں۔
قدیم رسومات اور جدید انداز:
سامن کے دور میں لوگ نقاب پہن کر برے بھوتوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ آج یہی روایت مختلف تخلیقی ملبوسات میں ڈھل گئی ہے۔
ٹرک یا ٹریٹ (Trick-or-Treat) کی روایت قرونِ وسطیٰ کے "گائزنگ” اور "سولنگ” سے آئی، جہاں لوگ دروازے دروازے جا کر دعائیں دیتے یا گانے سناتے اور بدلے میں مٹھائی لیتے۔
ہالووین کے رنگ — نارنجی اور سیاہ — فصل اور اندھیرے کی علامت ہیں۔ چمگادڑیں، کالے بلیاں اور الو بھی سامن کی راتوں سے جڑی علامتیں ہیں۔
دنیا بھر میں ہالووین کی مقبولیت فلموں، موسیقی اور تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے بڑھی۔ فلمیں جیسے "ہوکس پوکس” اور "ہالووین” نے اسے عالمی تہوار میں بدل دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کا پہلا "ہانٹڈ ہاؤس” 1915 میں انگلینڈ میں کھولا گیا تھا، جہاں میکانیکی آلات، آوازوں اور اداکاروں کے ذریعے خوفناک تجربہ تخلیق کیا گیا۔







