پاکستانی خبریں

آئینی ترمیم پر فیصلہ پارلیمنٹ کا استحقاق، مسلح افواج صرف رائے دے سکتی ہیں، فوج کا سیاست سے لاتعلقی کا اعادہ

خلیج اردو
راولپنڈی: ترجمان پاک فوج نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر مسلح افواج صرف اپنی رائے دے سکتی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گورنر راج کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے اور اس حوالے سے فوج کا کوئی کردار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہیں، پاک فوج کی کسی سے ذاتی پسند یا ناپسند نہیں، اور فوج نہیں چاہتی کہ اسے سیاسی معاملات میں الجھایا جائے۔ فوج کا کام آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ملکی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کے پاس خیبر پختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں قیمتی معدنی وسائل موجود ہیں، جنہیں قومی مفاد میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ تاہم سیاسی، جرائم پیشہ اور دہشت گرد گروپس ملک میں امن و امان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں ملک میں مدارس کی تعداد 83 ہزار تھی جو اب ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر ان کی رجسٹریشن کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button