خلیج اردو
نیویارک: امریکی سیاست میں ایک تاریخی موڑ، جب ڈیموکریٹ امیدوار ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوگئے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی بھرپور مخالفت کے باوجود ظہران ممدانی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
نومنتخب میئر ظہران ممدانی نے اپنے سپورٹرز سے خطاب میں کہا کہ ہم نے نیویارک میں تاریخ رقم کردی، عوام نے ثابت کردیا کہ طاقت ان کے ہاتھ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمارے ساتھ جو ہوا وہ سیاست نہیں تھی، سیاست اب ہوگی۔ عوام کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں۔ میں عوام کے لیے لڑوں گا کیونکہ میں انہی میں سے ہوں۔”
ظہران ممدانی نے مزید کہا کہ نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ یکم جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور مزدوروں کے حقوق کے لیے یونینز کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں سکیورٹی اور انصاف سب کے لیے یکساں ہوگا۔
نومنتخب میئر نے صدر ٹرمپ کو براہِ راست للکارتے ہوئے کہا کہ “خوف کی شکست اور امید کی جیت ہوئی ہے۔ ٹرمپ سن لیں، نیویارک تارکین وطن کا شہر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تارکین وطن ہی اس شہر کو چلاتے ہیں۔ اگر کوئی ٹرمپ کی دھوکا دہی کی شکار قوم کو دکھا سکتا ہے کہ اسے کیسے شکست دینی ہے، تو وہ یہی شہر ہے جس نے اسے جنم دیا تھا۔”
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے ظہران ممدانی کو “کمیونسٹ” قرار دیا اور نیویارک شہر کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے کی دھمکی دی۔ صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ریپبلکن امیدوار کی شکست کی دو وجوہات ہیں: “ایک یہ کہ میں بیلٹ پر نہیں تھا، اور دوسری وجہ امریکا میں جاری شٹ ڈاؤن ہے۔”
انتخابات میں ظہران ممدانی نے 10 لاکھ 35 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے، جب کہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار اینڈریو کومو کو صدر ٹرمپ کی حمایت کے باوجود شکست ہوئی۔ ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ممدانی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
میئر کے ان انتخابات میں 2001ء کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا، جہاں 17 لاکھ سے زائد ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ظہران ممدانی اور دیگر کامیاب ڈیموکریٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ “ابھی بہت کام باقی ہے، مگر مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔” ہیلری کلنٹن نے بھی ممدانی کی کامیابی کو ترقی پسند نظریات کی فتح قرار دیا۔
دنیا بھر کے رہنماؤں نے ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی، اور اسے امریکی تاریخ میں تنوع اور برداشت کی جیت قرار دیا۔






