
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات جیسے متنوع ملک میں، جہاں زیادہ تر آبادی غیر ملکی افراد پر مشتمل ہے، مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا امتزاج ایک طاقت بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ ایسے ماحول میں جہاں دنیا بھر سے لوگ آ کر آباد ہوئے ہیں، مشترکہ سیکھنے کے پلیٹ فارمز اس تنوع کو سماجی رشتہ میں بدلنے کا مؤثر ذریعہ بن رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیم — اپنے وسیع ترین مفہوم میں — لوگوں کو ایک جگہ لانے کا سب سے طاقتور طریقہ ہے۔ یونیورسٹی ہو، دفتر ہو یا کمیونٹی سینٹر، ایک ساتھ بیٹھ کر سیکھنے سے باہمی احترام اور سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کو نہ صرف بات چیت کی مشترکہ زبان دیتا ہے بلکہ ایک دوسرے کی کیفیت سمجھنے اور ہمدردی پیدا کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
"Year of Community” کی مہم اس سمت میں ایک مرکزیت پیدا کر رہی ہے، جس میں ہر رہائشی کو معاشرتی تعلق مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ سیکھنے کا عمل اس تعاون کی سب سے واضح شکل ہے کیونکہ یہ لوگوں کو نظم و ضبط، مقصد اور تجسس کے ساتھ جوڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ملک ترقی کر رہا ہے، اس کی سماجی یکجہتی کا انحصار اداروں سے زیادہ لوگوں کے باہمی تعلق اور رشتوں پر ہوگا۔
ملک بھر میں مختلف ادارے اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ مشترکہ سیکھنے کی سماجی اہمیت بہت گہری ہے۔ جب مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ ایک ساتھ سیکھتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو اجنبی نہیں بلکہ ساتھی کے طور پر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ کسی دفتر میں انگلش یا عربی کلاس ہو یا کسی اسکل ورکشاپ میں نئے مواقع سیکھے جائیں، ایسے مواقع تعلقات کو مضبوط کرتے ہیں۔
این وائی یو ابوظبی میں ایک ایسی مثال دس سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جہاں ابتدا میں اسٹاف کیلئے ایک چھوٹی انگریزی کلاس شروع کی گئی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ مکمل بالغوں کی تعلیمی پروگرام میں تبدیل ہوگئی، جس میں عربی، کاروباری مہارتیں، مالیاتی نظم، کمپیوٹر تربیت اور ذہنی صحت جیسے کورسز شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فیکلٹی اور اسٹاف کے ارکان رضاکارانہ طور پر اساتذہ بنتے ہیں، جس سے مشترکہ سیکھنے اور شمولیت کی ثقافت فروغ پاتی ہے۔
تحقیقات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ایسی تعلیمی سرگرمیاں نہ صرف فرد کی صلاحیت بڑھاتی ہیں بلکہ پوری کمیونٹی کی نفسیاتی صحت اور سماجی رشتوں کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈپریشن اور بے چینی عالمی معیشت کو ہر سال تقریباً بارہ ارب ورکنگ ڈیز اور ایک ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچاتے ہیں، لہٰذا ایسا سیکھنے کا ماحول جو ذہنی صحت اور شمولیت کو تقویت دے، ایک طرح سے معاشرتی صحت کا حفاظتی نظام بھی ہے۔
یو اے ای جیسے عالمی سطح پر متنوع معاشرے میں، جہاں 80 فیصد سے زائد آبادی تارکین وطن پر مشتمل ہے، سیکھنے کا عمل لوگوں کو ایک مشترکہ راستے پر لاتا ہے۔ قیادت ہمیشہ علم اور جدت کو قومی ترقی کی بنیاد قرار دیتی آئی ہے اور کمیونٹی لرننگ اس وژن کو انسانی رشتوں تک وسعت دیتی ہے۔ جب تعلیم احترام اور ضرورت کے مطابق فراہم کی جائے تو یہ سماجی ڈھانچے کو اتنا ہی مضبوط کرتی ہے جتنا معیشت کو۔
سیکھنے کا عمل شہری ذمہ داری کو بھی بڑھاتا ہے۔ جو لوگ سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں وہ زیادہ رضاکارانہ خدمات کرتے ہیں، رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور کمیونٹی منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں۔ سیکھنا یوں صرف کام کی تیاری نہیں بلکہ معاشرے میں فعال شرکت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔
اداروں، کمپنیوں، اسکولوں اور اسپتالوں کیلئے بھی یہ پیغام واضح ہے: تعلیم کو اپنی کمیونٹی کا اثاثہ سمجھیں۔ چھوٹے قدم اٹھائیں، ملازمین سے پوچھیں کہ وہ کیا سیکھنا چاہتے ہیں، کس زبان میں، اور کس وقت۔ ورک ڈے میں وقفہ دیں، پیشہ ورانہ تربیت کے گھنٹے رکھیں، اور ایسی کلاسیں کھولیں جن میں مختلف طبقوں کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکیں تاکہ سٹیٹس کی دیواریں گر جائیں۔
یہی "Year of Community” کی حقیقی روح ہے — ایک شیڈول، ایک کلاس روم، ایک مشترکہ نوٹ بک، اور ایسے پڑوسیوں کے درمیان گفتگو جو شاید کبھی ایک دوسرے سے نہ ملتے۔ اگر یہ کوشش مستقل جاری رہی تو یو اے ای میں نہ صرف ادارے مضبوط ہوں گے بلکہ دنیا بھر میں شمولیت اور ہم آہنگی کی نئی مثالیں قائم ہوں گی۔
یہ مضمون ایلِریا جِجدیا نے تحریر کیا ہے جو این وائی یو ابوظبی میں عالمی رابطوں اور پروگرامز کی ڈائریکٹر ہیں۔







