
خلیج اردو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ڈیفنس کاریسپونڈنٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس مکمل طور پر اہل ہے اور دہشتگردی سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضم شدہ اضلاع سے پولیس بھرتی کے لیے معیار نرم کر دیا گیا ہے اور پولیس کے لیے جدید آلات کی خریداری سمیت سپیشل برانچ کے لیے بھی جدید آلات کی منظوری دی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردوں کو سزا دینے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی ہدایت کر دی ہے اور انسداد دہشت گردی قوانین میں موجود سقم ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا گیا ہے اور وفاق کے ساتھ مکمل تعاون جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جامع امن پلان اور نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان وقت کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تعلیم، صحت اور امن و امان ان کی اولین ترجیحات ہیں اور ان موضوعات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاق واجبات ادا کرے تو صوبہ پولیس، صحت سمیت تمام شعبوں میں مزید بہتری لاسکتا ہے۔ صوبے میں فورینزک لیب قائم کرنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے، جس پر جتنا خرچ ہو، صوبہ خود برداشت کرے گا۔
شہدا کے اہل خانہ کے لیے مراعات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس، سی ٹی ڈی اور سپیشل برانچ کے شہدا کے خاندانوں کے لیے پنجاب کے برابر معاوضہ منظور کیا گیا ہے اور شہید کے بیٹے یا بیوہ کے لیے کوٹا بھی مختص کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے گورننس کے بہتر نظام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کا چیف سیکرٹری پہلی بار مسائل کو آن لائن مانیٹر کر رہا ہے اور فوری حل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دہشتگردی کے ہر حال میں خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے آؤٹ آف دی باکس حل درکار ہیں۔ بعض جگہوں پر موجود کوتاہیوں کو دور کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے افغانستان جانے کے غیر ذمہ دارانہ بیانات پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی ایسے اقدام سے صوبوں کے عوام کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
ترقیاتی فنڈز میں کٹ لگا کر پولیس اور سی ٹی ڈی کو فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ بلٹ پروف گاڑیوں کے حصول میں تاخیر اور وسائل کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں، تاہم دہشتگردی کے خاتمے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ اعتماد کا فقدان دور کرنا ضروری ہے، کیونکہ انہی کے اعتماد سے دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ تیراہ میں مقامی لوگوں کے تعاون سے فورسز نے دہشتگردوں کو شکست دی، جو عوامی شمولیت کی اہم مثال ہے۔






