
اوپن اے آئی نے کم قیمت چیٹ جی پی ٹی گو سبسکرپشن پلان کو عالمی سطح پر متعارف کرا دیا ہے، جو ابتدا میں بھارت میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس توسیع کے بعد یہ سروس اب دنیا کے 170 سے زائد ممالک میں صارفین کے لیے دستیاب ہے، جس کا مقصد کم لاگت میں پریمیم اے آئی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی گو کو اوپن اے آئی کے مرکزی پلس پلان سے کم قیمت متبادل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق امریکا میں اس پلان کی قیمت 8 ڈالر ماہانہ رکھی گئی ہے، جبکہ بعض ممالک میں مقامی مارکیٹ کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا گیا ہے۔ یہ پلان اب چیٹ جی پی ٹی پلس (20 ڈالر ماہانہ) اور چیٹ جی پی ٹی پرو (200 ڈالر ماہانہ) کے ساتھ اوپن اے آئی کی سبسکرپشن فہرست کا حصہ بن چکا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی گو ان صارفین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مفت ورژن سے زیادہ فیچرز اور زیادہ میسجنگ کی سہولت چاہتے ہیں، مگر مہنگے پریمیم پلان کا انتخاب نہیں کرنا چاہتے۔ ٹیک رپورٹس کے مطابق گو پلان میں فری ورژن کے مقابلے میں جدید ماڈلز تک نمایاں طور پر زیادہ رسائی اور استعمال کی بلند حد فراہم کی جاتی ہے، جسے خاص طور پر تحریر، سیکھنے اور روزمرہ مسائل کے حل کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
بھارت اس پلان کی کہانی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں 2025 میں چیٹ جی پی ٹی گو کو اوپن اے آئی کا سب سے سستا ادا شدہ پلان قرار دے کر متعارف کرایا گیا تھا۔ اب اس کی عالمی توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صارفین کے لیے قیمت اور آسان رسائی اے آئی مارکیٹ میں تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔
اس توسیع کے ساتھ ہی اوپن اے آئی نئے کاروباری ماڈلز پر بھی کام کر رہا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں چیٹ جی پی ٹی کے فری اور گو پلانز پر اشتہارات کی آزمائش شروع کرے گی، جبکہ پلس اور پرو پلانز کو اشتہارات سے پاک رکھا جائے گا۔ اوپن اے آئی کے مطابق اشتہارات چیٹ جی پی ٹی کے جوابات سے الگ ہوں گے اور نتائج پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق کم قیمت سبسکرپشن اور اشتہارات کا امتزاج عالمی سطح پر چیٹ جی پی ٹی کی مسابقتی پوزیشن کو مضبوط بنا سکتا ہے، خاص طور پر ان مارکیٹس میں جہاں صارفین قیمت کے حوالے سے حساس ہیں۔ اوپن اے آئی اب چیٹ جی پی ٹی کو ایک کثیر سطحی صارف پروڈکٹ میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں مفت صارفین، گو، پلس اور پرو کے ذریعے مختلف ضروریات اور بجٹس کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
کمپنی کی حکمتِ عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ مستقبل میں چیٹ جی پی ٹی کو محض ایک نئی ٹیکنالوجی کے بجائے روزمرہ استعمال کی ایک قابلِ استطاعت سہولت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔







