
خلیج اردو
دبئی: ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں روسی یورالز خام تیل کی قیمت 123.45 ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ برینٹ خام تیل 109.03 ڈالر پر جا پہنچا۔ خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث روسی تیل کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ماسکو کو معاشی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مغربی پابندیوں کے اثر کو کمزور کر رہی ہے، کیونکہ روسی تیل اب ایشیائی منڈیوں میں تیزی سے جگہ بنا رہا ہے۔ پہلے یورالز خام تیل برینٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر فروخت ہو رہا تھا، لیکن اب عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث اس کا منافع بڑھ گیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے بھی معاشی دباؤ کے پیش نظر بھارت کو روسی تیل کی محدود درآمد کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد بھارتی خریداروں نے بڑی مقدار میں خریداری شروع کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے عالمی توانائی منڈی کا توازن بدل دیا ہے، جہاں روس ایک متبادل سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ پابندیوں کی حکمت عملی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

