خلیج اردو ویب ڈیسک |07-جولائ-2020ء|20:25PM
ابوظہبی میں بس اسٹیشن پر سونے والے ایک ہندوستانی مزدور کی مدد کے لیے محیر افراد سامنے آگئے۔
ہندوستانی ریاست اتر پردیش کے چھوٹے سے قصبے ماؤ سے تعلق رکھنے والے گوبری سہانی تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے دوران ماہانہ 1،100 درہم کمارہے تھے۔تاہم نومبر کے بعد سے انہیں کوئی تنخواہ نہیں ملی تھی اور جب کووڈ 19 وبائی بیماری پھیل گئی ، تو اسے بتایا گیا کہ اپریل سے اس کی تنخواہ 700 درہم ہو جائے گی۔ انہوں نے خلج ٹائمز کو بتایا کہ انہیں ڈبل شفٹ میں ڈال دیا گیا تھا لیکن سات ماہ سے انہیں کوئی تنحواہ نہیں ملی۔
میں سمجھ گیا کہ مجھے یہ کام تنحواہ کے بغیر کرنا پڑے گا ، لہذا میں نے مئی کے پہلے ہفتے میں ملازمت چھوڑ دی۔
"میں نے صبح 7 بجے سے شام 8 بجے تک ایک ولا تعمیراتی سائٹ پر کام کیا۔ مجھ سے صبح 2 بجے سے دوبارہ کام کرنے کو کہا گیا۔ میری تنخواہ گھٹ کر 700 ہوگئی۔ میرے واجبات نومبرتک ہیں لیکن کوویڈ 19 کی اس صورتحال میں مجھے معلوم ہے مجھے یہ سارا پیسہ واپس نہیں ملے گا۔
"مجھے کوئی نئی نوکری یا ٹھہرنے کی جگہ نہیں مل پائی۔ مئی کے بعد سے میں دن کو ایک پارک اور رات کے وقت ابوظہبی سینٹرل بس اسٹیشن میں قریب دو ماہ تک رہا ہوں۔ ایک کیفےٹیریا کا مالک اور متعدد افراد مقامی لوگ کھانا پیش کرتے تھے اور راہگیر پیسے وغیرہ۔ ”
سہانی کو امید کی کرن اس وقت نظر آئ جب غیرملکی افراد کے ایک گروہ کو ان کی کہانی کے بارے میں علم ہوا جنہوں نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔سوشل ورکر جناب دامودرن صاحب نے ان کی مشکلات کے بارے میں مشہور صراف تشار پتنی کو بتایا جنہوں نے سہانی کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔
پٹنی نے کہا: "ساہانی کی حالت خراب تھی۔ میں نے اسے نئے کپڑے اور کھانا کھلایا اور اسے سیلون میں لے گیا۔ اب وہ بہتر محسوس کررہا ہے۔ میں نے عارضی رہائش اور کھانے کا انتظام کیا ہے جب تک کہ اسے لکھنؤ جانے والی خصوصی پرواز میں ٹکٹ نہیں مل جاتا ہے۔
پٹنی نے دیگر کمیونٹی ممبروں کے ساتھ مل کر100،000 روپیہ (4،900درہم) بھی اکٹھا کیا تاکہ سہانی خالی ہاتھ گھر واپس نہ جائے۔ یہ چیک انہیں منگل کی سہ پہر پیش کیا گیا۔
"میں ان تمام لوگوں کو کبھی نہیں بھولوں گا جنہوں نے میری مدد کی۔ اگر یہ لوگ نا ہوتے تو میں اب زندہ نہ ہوتا "۔ایسا کہنا تھا سہانی کا جو اب گھر واپس جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔






