خلیج اردو آن لائن:
اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا ان دنوں میں متحدہ عرب امارات آ رہا ہے۔ تو آپ کے لیے یو اے ای حکومت کی جانب عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے نافذ کیے قرنطینہ قوانین اور پراسس کو جاننا از حد ضروری ہے۔
یہ قوانین وفاقی اور مقامی سطح پر یو اے ای کی نیشنل کرائسز اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی، دبئی کی سپریم کمیٹٰی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور صحت کے محکمے کی وفاقی اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے ہیں۔
قرنطینہ کے حوالے ضروری معلومات درج ذیل ہے۔
1۔ قرنطینہ اور آئسولیشن میں کیا فرق ہے؟
اگر کسی شخص کو ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیل جانے والی بیماری لاحق ہے تو اسے دوسرے لوگوں سے الگ کر دینے کو آئسولیشن کہتے ہیں۔ تاکہ وہ دوسروں متاثر کیے بغیر اپنا علاج کروا سکے۔
تاہم قرنطینہ ایسے حالات کو کہتے ہیں جس میں ایسے افراد کو الگ کر دیا جاتا ہے جن پر جلد منتقل ہونے والی بیماری سے متاثر ہونے کا شک ہوتا ہے۔
کورونا وائرس کے دوران کتنے دنوں کے لیے قرنطینہ کیا جاتا ہے۔؟
کورنا وائرس ایک ایسی بیماری ہے جو بہت جلد ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلتی ہے۔ اس لیے اگر کسی شخص پر شک ہوے کہ اسے کورونا وائرس ہو سکتا ہے تو اسے 14 دنوں کے لیے قرنطینہ کیا جاتا ہے۔ تاکہ وہ بیماری سے صحت یاب ہو سکے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت بھی کورونا کے مشتبہ افراد کو قرنطینہ کرتی ہے۔ اور قرنطینہ کیے گئے افراد کے لیے چند قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں۔
یو اے ای حکومت کی جانب سے قرنطینہ کیے گئے افراد کے لیے الہسن ایپ ڈاؤنلوڈ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اور انہیں اپنی صحت پر نظر رکھنی ہوگی، ہیلتھ اتھارٹیز کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا اور اگر ان میں کورونا کی کوئی علامت ظاہر ہوتی ہے تو انہیں ڈاکٹر سے روجوع کرنا ہوگا۔
یو اے ای آنے کو قرنطینہ کرنے کے حوالے سے قواعد و ضوابط
نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (این سی ای ایم اے) مطابق یو اے ای آںے والے مسافروں کو اپنی رہائش گاہ پر 14 دنوں کے لیے قرنطینہ میں جانا ہوگا اور مقامی ہیلتھ اتھارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
تاہم، دبئی آنے والے مسافروں کا ایئرپورٹ پر کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ہی انہیں 14 دنوں کے لیے قرنطینہ کیا جائے گا۔ مسافروں کو دبئی کے لیے سفر سے 48 سے 72 گھنٹوں کے درمیان کورونا کا پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔
ایمریٹس ایئرلائنز کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ” دبئی آںے والے مسافر اگر دبئی ایئرپورٹ پر کورونا ٹیسٹ کرواتے ہیں تو انہیں ٹیسٹ کی رپورٹ آںے تک آئسولیشن میں رہنا ہوگا۔ اگر رپورٹ منفی آتی ہے تو مسافروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ تاہم اگر ٹیسٹ رپورٹ مثبت آتی ہے تو مسافروں کو دبئی ہیلتھ اتھارٹیز کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا اور خود کو الگ تھلگ رکھنا ہوگا”۔
گھر میں قرنطینہ سے متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر کتنا جرمانہ ہوگا؟
2020 کی قراداد نمبر 38 کے مطابق گھر میں قرنطینہ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والا دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالے گا، اس لیے وہ شخص 50 ہزار درہم جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
گھر میں قرنطینہ کیسے کیا جاتا ہے؟
یو اے ای کی ہیلتھ اتھارٹٰیز کی جانب سے یو اے ای میں آنے افراد کے لیے گھر میں قرنطینہ ہونے کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ جو کہ درج ذٰیل ہے:
- گھر میں قرنطینہ ہونے کے لیے سب سے پہلے خود کو دوسروں سے بلکل الگ تھلگ کر لیں
- اس دوران کسی کو گھر پر مدعو نہ کریں اور کسی کو گھر میں داخل نہ ہونے دیں
- گھر میں رہیں اور دفتر، سکول یا عوامی مقامت پر نہ جائیں
- پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹیکسی کا استعمال مت کریں
- آپ کو ایک ہوا دار کمرے میں رہنا ہوگا اور اس کے دروازے بند رکھنے ہوں گے۔
- اگر آپ گھر میں کسی دوسری چیز مثلا باتھ روم وغیرہ یا کوئی اور چیز استعمال کرتے ہیں۔ تو اسے استعمال کے بعد جراثیموں سے پاک کرنے کے لیے گرم پانی یا جرثیم کش ادویات سے دھویں اور اپنی چیزوں کو صرف اپنے تولیے سے خشک کریں۔
- آن لائن کچھ خریدنے کی صورت میں ڈلیوری والے براہ راست وصول نہ کریں بلکہ اسے کہں کہ وہ اس چیز کو دروازے کے باہر یا گیراج میں رکھ دے۔
- ہاتھ صابن اور پانی سے تقریبا 20 سیکنڈ تک دھویں اور پھر انہیں اچھے سے خشک کر لیں
- چھینکتے وقت اپنے منہ کو ٹشو سے ڈھانپ لیں اور پھر اس ٹشو پیپر کو پلاسٹ کے ایسے بیگ میں تلف کریں جس کا منہ بند کیا جا سکتا ہو۔
- اگر آپ نے ہاتھ نہیں دھوئے تو اپنے ناک منہ اور آنکھوں کو چھونے سے پرہیز کریں کریں
- اپنی علامات پر نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
کورونا کی علامات درج ذیل ہیں:
- سانس لینے میں دشواری ہونے کی صورت میں
- بخار
- گلا خراب ہونے کی صورت میں
- سر درد
- اور کھانسی
آپ کو قرنطینہ سے متعلق ہدایات پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا
مزید برآں، کورونا سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں:
وازرت صحت: 800358
ابو ظہبی ہیلتھ سنٹر کے واٹس ایپ نمر: 056 2312171
دبئی ہیلتھ ارتھارٹی: 800342
Source: Gulf News







