ٹپس / سٹوری

متحدہ عرب امارات: ویزا ختم ہونے کے بعد رعایتی مدت کے دوران نوکری چھوڑنے اور رہائش اختیار کرنے کی صورت میں عائد ہونے والے جرمانے کون ادا کرے گا؟

اگر ملازمت کا ویزا ختم ہونے کے بعد رعایتی مدت کے دوران نوکری سے استعفیٰ دیا جائے تو ویزا ختم ہونے کے بعد رہائش اختیار کرنے پر عائد ہونے ہوالے ممکنا جرمانے کون ادا کرے؟

 

خلیج اردو آن لائن: نجی خبررساں ادارے گلف نیوز کو ان کے ایک قار ی کی جانب سے پوچھا گیا تھا کہ اگر ملازمت کا ویزا ختم ہونے کے بعد رعایتی مدت کے دوران نوکری سے استعفیٰ دیا جائے تو ویزا ختم ہونے کے بعد رہائش اختیار کرنے پر عائد ہونے ہوالے ممکنا جرمانے کون ادا کرے؟

گلف نیوز کے قاری کا سوال تھا کہ اس نے اپنی کمپنی سے 9 جولائی 2020 کو استعفیٰ دیا اور 11 اگست تک ایک مہینے کا نوٹس پورا کیا بلکہ دو دن زیادہ کام کیا۔ قاری کہنا تھا کہ”میں نے استعفیٰ دینے کے فوری بعد ہیومن ریسورس کی ٹٰیم کو بتایا کہ میرا ویزا 20 جون کو ختم ہوچکا ہے اور وہ ابھی تک کمپنی کی جانب سے رینیو نہیں کروایا گیا۔ مزید برآں میرا ویزا 13 اگست کو کینسل ہوگیا۔ تاہم اب میرے ویزا اسٹیٹس پر آ رہا کہ میری رعایتی مدت 20 جولائی کو ختم ہوچکی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مجھے 20 جولائی سے 11 اگست تک ویزا ایکسپائر ہونے کے بعد رہائش اختیار کرنے کی مد میں جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، جبکہ کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق میں نے ان کے پاس 11 اگست تک رعایتی مدت کے دوران کام کیا ہے۔ برائے مہربانی مجھے بتایا جائے کہ یہ جرمانہ کون ادا کرے گا؟ کیا یہ کمپنی کی ذمہ داری اور کیا میں ایسا کوئی دعویٰ کر سکتا ہوں”؟

گلف نیوز نے یہ سوال دبئی کی ایک کمپنی الروواد ایڈوکیٹس اینڈ لیگل کنسلٹنٹس کے قانونی مشیر ڈاکٹر حسن الہیس کے سامنے رکھا تو انکا جواب درج ذیل تھا:

جواب: ڈاکٹر حسن کا کہنا تھا کہ” یو اے ای کے غیر ملکیوں کے داخلے اور رہائش سے متعلق وفاقی قانون کے آرٹیکل 19 کے مطابق رہائشی ویزے کے حامل افراد کو پرمٹ کینسل ہونے یا اس کی معیاد پوری ہونے پر ملک چھوڑنا ہوگا۔ ”

مزید برآں، اسی قانون کے آرٹیکل 21 کے مطابق اگر رہائشی ویزے کا حامل فرد اگر ویزا رینیو نہیں کرواتا اور ویزاے ایکسپائر ہونے کے بعد 30 دن کے اندر ملک نہیں چھوڑ پاتا تو وہ 30 دن کے بعد ہر دن کے لیے 100 درہم جرمانہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔  اور ہم جانے ہیں کہ ICA نے رعایتی مدت میں کئی بار توسیع  اور جرمانوں سے معافی کا اعلان کیا ہے۔  اور ہم سمجھتےہیں کہ آپ کا ویزا اسی مدت کے دوران ایکسپائر یا کینسل ہوا اس لیے ممکن ہے کہ آپ جرمانوں سے معافی کے اہل ہوں۔”

ڈاکٹر حسن کا مزید کہنا تھا کہ ” ہم سمجھتے ہیں کہ یو اے ای کے لیبر لاء کے آرٹیکل 117 کے  تحت آپ کو 30 دن کو نوٹس پورا کرنا تھا۔ لہذا جب کوئی ملازم استعفیٰ دیتا ہے تو30 دن کے نوٹس پر کام کرنا اس کے لیے فرض ہوتا۔ مزید برآں، آپ کا استعفیٰ 30 دن کی رعایتی مدت کے دورنا دیا گیا تھا، اس لیے آپ کی کمپنی یا آجر کہ سکتا ہے کہ ویزا اس لیے رینیو نہیں کروایا گیا کیونکہ ملازم اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے چکاتھا”۔

"لہذا موجودۃ صورتحال اور ICA کی جانب سے اٹھائے گا اقدامات کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ GDRFA سے رابطہ کر سکتے ہیں، اور ان سے پوچھ سکتے ہیں آپ کو جرمانے سے معافی کیوں نہیں ملی”۔

پس اگر ایک ملازم اپنے ویزے کی تجدید کے لیے دیے گئے 30 دنوں کی رعایتی مدت کے دوران ملازمت سے استعفیٰ دیتا ہےتو وہ ایمگیرشن اتھارٹیز سے جرمانوں کی معافی کے لیے درخواست کر سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے دبئی ویزوں کے لیے آمر سنٹر کے اس نمبر 8005111  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

جبکہ دیگر امارات کے ویزوں کے لیے آپ ICA کے اس نمبر  600 5222 22 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button