خلیج اردو آن لائن:
بھارتی شہریت حاصل کرنے والے پاکستانی گلوکار عدنان سمیع نے پاکستانی ایئر فورس کے خلاف ہتک آؐمیز کھلا خط لکھا ہے۔
عدنان سمیع نے یہ خط اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے نشر کیا ہے۔
خط کے متن کے بارے میں پڑھنے سے پہلے جان لیجئے کے عدنان سمیع 1971 میں پاکستان ایئرفورس کے پائیلٹ اور سفیر ارشد سمیع خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ارشد سمیع خان پاکستان ایئر فورس کے جنگی پائلٹ تھے۔
عدنان سمیع کے والد ارشد سمیع خان نے بطور فائٹر پائلٹ پاکستان ایئرفورس میں شمولیت اختیار کی تاہم اس کے بعد سول سروس میں آ گئے اور بہت بڑے عہدوں پر تعینات رہے۔ ارشد سمیع خان تقریبا چودہ ملکوں میں پاکستان کے سفیر تعینات ہوئے۔
اور 22 جون 2009 میں وفات پا گئے۔
ارشد سمیع کے بیٹے عدنان سمیع ایک مشہور گلوکار ہیں۔ جنہوں نے پاکستان چھوڑ کر بھارت میں رہائش اختیار کی اور بھارت کی شہریت حاصل کی، لیکن ارشد سمیع کی اہلیہ اور عدنان سمیع کی والدہ پاکستان میں ہی مقیم ہے۔
عدنان سمیع نے ایئر فورس کے نام ہتک آمیز خط کیوں لکھا؟
پاکستان ایئر فورس کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنی سالانہ تقریب میں اپنے سابق افسران اور حاضر افسرارن کو تقریب تقسیم انعامات اور ایوارڈ کی تقسیم کے لیے مدعو کرتے ہیں۔ جو افسران وفات پا چکے ہوتے ہیں انکے اہلخانہ کو مدعو کیا جاتا ہے۔
لیکن عدنان سمیع کی والدہ کو گزشتہ دو سال سے اس تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔ لہذا عدنان سمیع نے خط اس کے رد عمل میں لکھا ہے۔
عدنان سمیع اپنے خط کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ”مجھے یہ جان کر بہت ناگواری ہوئی کہ پاکستان ایئر فورس مسلسل دوسرے سال بھی میری ماں اور (پی اے ایف) کے ہیرو سکوارڈرن لیڈر ریٹائرڈ کی بیوہ کو اپنی سالانہ تقریب میں مدعو نہیں کیا ہے۔ جو کہ ماضی میں ہر سال مدعو کرتے تھے”۔
https://twitter.com/AdnanSamiLive/status/1303262512918396929?s=20
عدنان سمیع نے مزید لکھا کہ "کیا یہ محض اس لیے کیا گیا ہے کہ میں نے (انکے بیٹے) بھارت میں رہنا پسند کیا ہے؟ کیا آپ اپنے ہیروز کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہو؟ اور پھر لوگ مجھے سے پوچھتے ہیں کہ میں پاکستان کیوں چھوڑا؟”
بھارتی شہریت حاصل کرنے والے موسیقار نے مزید لکھا کہ ایسی تقریبات میں آںے سے ایک بیوہ اپنے شوہر کے شاندار ماضی کو یاد کرسکتی، جس کا وہ بھی حصہ رہی ہے۔ "آپ خود غرضانہ طریقے کے ساتھ اسے یہ سب کس اتھارٹی کے تحت چھین سکتے ہو”۔
عدنان نے اپنی کے والدہ کے حوالے سے لکھا کہ "مجھے پتہ کہ میری ماں میرے ان جذبات کے ساتھ متفق نہیں ہوگی۔۔۔۔ لیکن اسے آپ اس رویہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔
خط کے اختتام میں گلوکار نے لکھا کہ ” میں اسی لیے بھارتی ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں، کیونکہ بھارت اپنے ہیروز کی عزت کرتا ہے”۔
سوشل میڈیا پر رد عمل
سوشل میڈیا پر عدنان اکثر اوقات پاکستانی صارفین کی تنقید کا نشانہ رہتے ہیں اور اس بار بھی انہیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی صحافی اجمل جامی نے عدنان سمیع کے اس خط پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی پنجابی فلم کا ڈائلاگ "گندی اولاد نہ مزا نہ سواد” لکھا۔
Saali Gandi aulaad, Na Maja na Swaad….! @AdnanSamiLive https://t.co/1CTEukCuXj
— Ajmal Jami (@ajmaljami) September 9, 2020






