خلیج اردو آن لائن:
جمعرات کے روز متحدہ عرب امارات میں کورونا کے 930 نئے کیسز سامنے آئے تھے۔ جو گزشتہ 4 ماہ سامنے آنے کسیز سے 5 گنا زیادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ملک میں کورونا کے کل کیسز کی تعداد 76 ہزار 911 ہوگئی ہے۔
یو اے ای کے ہیلتھ سیکٹر کی ترجمان ڈاکٹر فریدہ الہوسانی نے میڈٰیا بریفنگ کے دوران کہا کہ کورونا کے یومیہ کیسز گزشتہ چار ماہ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ اور انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران وائرس سے 5 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ جس سے ملک میں کورونا کے باعث ہلاک ہونے والوں تعداد 398 ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر فریدہ نے بتایا کہ وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 586 ہے۔
ڈاکٹر فریدہ کا کہنا تھا کہ 10 اگست سے اب تک ملک میں کورونا کسیز میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ان کیسز میں سے 88 فیصد اجتماعات جیسا کہ پارٹیوں، تعزیتی اجتماعات میں شرکت اور قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہیں۔
Updates from the #UAE Government media briefing today.#CommitToWin pic.twitter.com/LUZZLjg7MM
— NCEMA UAE (@NCEMAUAE) September 10, 2020
نئے کیسز سے متعلق دیگر اعداد و شمار دیتے ہوئے ڈاکٹر فریدہ نے بتایا کہ”تمام کیسز میں 62 فیصد مرد جبکہ 38 فیصد خواتین ہیں۔ اور 12 فیصد کیسز بیرون ملک سے آنے والے ایسے افراد کے ہیں جنہوں نے ملک میں آنے کے بعد 14 دن کے قرنطینہ پر عمل نہیں کیا۔ اور 10 فیصد کیس سکول اسٹاف اور انتظامیہ کے ٹیسٹ کرنے کے بعد سامنے آئے”۔
کسیز میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
ڈاکٹر فریدہ کا کہنا تھا کہ ” کورونا کیسز میں ہونے والے حالیہ اضافے کی وجہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا اور ماسک نہ پہننا ہیں۔ اور اس کے علاوہ کچھ شاپنگ مالز کا کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنا، جیسا کہ صارفین کا بخار چیک کرنا اور شاپنگ سنٹر میں داخل ہونے والوں کی حد مقرر نہ کرنا شامل ہیں۔ اور ہم نے دیکھا ہے کچھ افراد کورونا کی علامات کو نظر انداز کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ ملنا نہیں چھوڑتے”۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ” ملک میں کئی نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بھی کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے”۔
14 دن کا قرنطینہ کب ضروری ہوجاتا ہے؟
ڈاکٹر فریدہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض سے ملنے والے افراد کے لیے 14 دن قرنطینہ ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ "ایسے افراد کو کورونا کی منفی رپورٹ پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور دوسرے لوگوں سے اس بنا نہیں ملنا چاہیئے۔ کیونکہ وائرس کے بڑنے کا دورانیہ 14 دن تک ہوسکتا ہے اس لیے 14ویں دن کروائے گئے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ پر ہی آپ کو قرنطینہ ختم کرنا چاہیے”۔
Source: Khaleej Times







