خلیج اردو
23 ستمبر2020
اسلام آباد: پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعت مسلم لیگ نواز کی رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر خاتون صحافی اور اینکر پرسن غریدہ فاروقی سے سخت جملوں کا تبادلہ کیا ہے۔
بدھ کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے مریم نوز نے گفتگو کی جس میں انہوں نے حالیہ میڈیا مباحثوں اور پاکستان کے بری فوج کے سبراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے نمائندگی کی ملاقات کے تناظر میں کہا کہ سیاسی سیاسی معاملات کے فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہیئے۔ اب ایشوز پر سیاسی قیادت کو نہ بلانا چاہیے نہ سیاسی قیادت کو جانا چاہیئے یہ مسائل پر بات کرنے کیلئے جس نے آنا ہے وہ پارلیمنٹ آئے۔،
سیاسی معملات پر جس نے بات کرنی ہے ان کو پارلیمنٹ آنا چاہیے، مسلم لیگ (ن) نائب صدر مریم نواز شریف pic.twitter.com/UuLGy3KWAG
— PMLN (@pmln_org) September 23, 2020
مریم نواز کی گفتگو کا یہ حصہ ویڈیو کی شکل میں مسلم لیگ ن کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا ہے جس کو ریٹویٹ کرکے غرید فاروقی نے تبصرہ کیا کہ مریم نواز صاحبہ نے کُھل کر شہباز شریف صاحب و دیگر کے آئی ایس آئی میس میں ملاقات کیلئے جانے کی مخالفت کر دی۔ ن لیگ آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ۔ جبکہ احسن اقبال صاحب نے کل ہی ہمارے پروگرام میں کہا کہ اِسمیں کوئی حرج نہیں پوری دنیا میں ہوتا ہے۔
اس ٹویٹ پر مریم نواز نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور غریدہ فاروقی پر الفاظ کے ساتھ کھیلنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں مخاطب کرکے کہا کہ زیادہ ہوشیار نہ بنو۔ غلیظ کھیل کھیلنے سے باز رہو ۔ میں نے ایک اصولی بیان دیا ہے جو ملکی آئین کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ ایسا تائصر دینے سے باز رہیں جس سے لگے کہ میں نے یہ بیان ہماری پارٹی کے صدر یا کسی خاص ممبر کی ہدایت پر دیا ہے۔انہوں نے میڈیا کے بعض حلقوں میں نواز شریف کے کسی نمائندے کی جنرل باجوہ سے ملاقات کی تردید بھی کی۔
Do not try to act smart and play nasty. I gave a principled statement which is in line with what our constitution says. Don’t make it sound like it was directed at our party president or any specific member. https://t.co/Vm0BNYgi8m
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 23, 2020
غریدہ فاروقی نے مریم نواز کی ٹویٹ کو صحافیوں پر حملے کا تائثر دیتے ہوئے پلٹ کر جواب دیا اور لکھا کہ غلیظ کھیل کا کیا مطلب؟ آپ ایک صحافی سے ایسا کہہ رہی ہے؟ برائے مہربانی حقائق بیان کرنے پر صحافیوں پر حملہ نہ کریں۔ نہیں مریم صاحبہ میں نے وہی کہا ہے جو آُپ کے بیان کا مطلب ہے۔
غریدہ فاروقی یہاں نہیں رکی اور انہون نے مریم نواز سے پوچھا کہ مریم صاحبہ کیا آپ سمجھتی ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور دیگر لیگی ارکان نے گلگت بلتستان کے حوالے سے آئی ایس آئی کے مس میں ملاقات کرکے اچھا کیا؟ مجھے امید ہے کہ میرے سوال کا جواب دیا جائے گا اور اسے گھناؤنا کھیل نہیں کہا جائے گا۔
غریدہ فاروقی نے شکایت کی کہ مریم صاحبہ کی اس ٹویٹ کے بعد مجھ پر مسلم لیگ ن کے اکاؤنٹس سے حملے ہورہے ہیں۔ کیا مجھے پوچھنے کا حق ہے کہ یہ مسلم لیگ کی پارٹی پالیسی ہے کہ ہمیں غلیظ کہا جائے؟ ہم کسی سے بھی محفوظ نہیں، ہمیں اپنا کام کرنا چاہیئے، وہ بولیں۔
مریم نواز کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے مکمل گفتگو سننے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید غریدہ فاروقی نے وہ مریم نواز کی مکمل گفتگو نہیں سنی۔ مریم نواز نے اپنی میڈیا ٹالک میں جس ملاقات کی تردید کی تھی وہ صحافی طلعت حسین کی ایکسکوسیو خبر کی ہے جس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نواز شریف کے نمائندے نے آرمی چیف سے ستمبر کے پہلے عشرے میں مکمل کی تھی جبکہ غریدہ فاروقی نے اسے لیگی رہنماؤں سمیت باقی سیاسی قیادت کی آرمی چیف سے ملاقات کی تناظر میں سمجھا ہے۔
اس بارے میں نجی ٹی وی اے آر وائے کی خبر کے مطابق سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے نواز شریف کے حوالے سے آرمی چیف سے ملاقات کی تھی۔






