عالمی خبریں

فرانس کی لڑائی شدت پسندی سے ہے ، اسلام سے نہیں

خلیج اردو
05 نومبر 2020
پیرس: فرانس کے صدر ایمونیل میکرون نے وضاحت کی ہے کہ ان کی لڑائی اسلام سے نہیں بلکہ شدت پسند سے ہے۔ انہوں نے فنانشل ٹائمز کی ایک خبر کو جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے بیانات کو غلط رنگ دے کر ان سے غلط چیزیں منسوب کی گئی ہے۔

فنانشل ٹائمز کے ایڈیٹر کے نام خط میں مکرون نے کہا ہے کہ برطانوی میگزین نے ان پر انتخابی فواد کیلئے مسلمانوں کے خلاف جزبات ابھارے ہیں لیکن میں ایسا بالکل بھی نہیں ہوں اور میری جنگ علیحدگی پسندوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ ہے نہ کہ اسلام کے ساتھ۔

انہوں نےکہا ہے کہ میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ فرانس یا اس کی حکومت پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کا الزام لگائے۔ اس کے جواب میں فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ فرانس کی علیحدگی پسندوں کے خلاف مبینہ مہم سے فرانس میں مسلمانوں کی زندگی داؤ پر ہے۔

اس آرٹیکل کو بعد میں ہٹایا گیا اور بتایا گیا کہ اس مین حقائق بارے غلطی تھی۔

فرانسیسی صدر نے فرانس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کسی حد تک فرانس کی معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے لیکن فرانس میں زندگیوں کو درپیش خطرات جتنا نہیں۔

انہون نے فرانس میں قاتلانہ حملوں کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ خطرہ ہے جس کے خلاف فرانس لڑ رہا ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button