
خلیج اردو
13 جولائی 2021
کابل : پیر کے روز طالبان نے ترکی کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ اپنے کچھ فوجی دستے کابل ایئرپورٹ کی سیکورٹی پر مامور کرنے سے باز رہیں۔
ترکی نے افغانسےان میں 500 سے زیادہ فوجی تعینات کیے ہیں جن میں سے کچھ کابل میں حامد کرزائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حفاظت اور کچھ افغان فوجیوں کی ٹریننگ میں مصروف ہیں۔
نیٹو کا حصہ ہوتے ہوئے ترکی افغانستان میں 20 سالوں سے فوجی حیثیت میں موجود ہے لیکن نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب ترک سیکورٹی اہلکار نیٹو کے بغیر کسی حیثیت میں موجود ہیں۔
افغان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو بتایا کہ اگر ترک افواج افغانستان میں موجود رہتی ہے تو اسے غیر ملکی قابض فوج کی حیثیت میں سمجھا جائے گا۔
نیٹو کا واحد ممبر اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے افغان طالبان نے ان پر بہت کم حملے کیے ہیں۔ ترجمان طالبان نے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن ہم انقرہ کی جانب سے ایئرپورٹ کی سیکورٹی سنبھالنے سے متعلق تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔
جمعہ کو ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور امریکی قیادت کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے ہوا ہے کہ نیٹو کے انخلا کے بعد ترک فوجی ایئرپورٹ کی سیکورٹی سنبھالیں گے۔
افغان ترجمان کے مطابق باحیثیت مسلم ملک ہماری ترکی کے ساتھ بہت سی مماثلتیں ہیں لیکن اگر ترکی افغانستان میں فوجی شکل میں موجود رہتی ہے تو انہیں نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Source : Arab News






