
خلیج اردو
اسلام آباد: موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا منظرنامہ مستحکم سے مثبت کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مثبت منظرنامہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
موڈیز کے مطابق 2025ء میں پاکستان کی معاشی نمو 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ 2024ء میں یہ 2.5 فیصد تھی۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام سے پاکستان کے لیے فنڈنگ کے امکانات میں بہتری آئے گی۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کو تقریباً 21 بلین ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے یہ ضرورت 23 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
پاکستان کے پاس 904 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، جو ضروریات سے بہت کم ہیں، اور بیرونی پوزیشن اب بھی نازک ہے۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ بلند بیرونی مالیاتی ضروریات کے ساتھ آئندہ 3 سے 5 سال میں پالیسیوں پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ مزید برآں، کمزور گورننس اور اعلیٰ سماجی تناؤ حکومتی اصلاحات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مہنگائی کے باعث سماجی تناؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ زیادہ ٹیکسز اور توانائی کے نرخوں میں مستقبل کی ایڈجسٹمنٹ اصلاحات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔






