
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں ٹریول ایجنٹس کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب اردن، لبنان اور دیگر ممالک سے آئے سیاحوں کی جانب سے ویزا میں توسیع کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر سیاح قلیل مدتی دورے پر آئے تھے لیکن اب پروازوں کی منسوخی اور وطن واپسی کے حوالے سے سیکیورٹی خدشات کے باعث مزید قیام چاہتے ہیں۔
پلوٹو ٹریولز کے منیجنگ پارٹنر بھارتی آیداسانی کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی سے متاثرہ ممالک کے کئی سیاح فی الحال یو اے ای میں قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"چند ممالک کے لیے پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں ایسے بہت سے کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں سیاح اپنی ویزا توسیع یا قانونی طور پر دوبارہ داخلے کے طریقے دریافت کر رہے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای کو اب بھی خطے کا ایک محفوظ ملک تصور کیا جا رہا ہے، اسی لیے لوگ یہاں خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں اور حالات بہتر ہونے تک قیام کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وائزفاکس ٹورازم کے سینئر منیجر سبیئر تھیکے پوراتھ والا پل نے بتایا کہ صرف سیاح ہی نہیں بلکہ یو اے ای میں مقیم افراد، جن کا تعلق اردن، لبنان اور ایران جیسے ممالک سے ہے، نے بھی گرمیوں کی چھٹیوں کے سفری منصوبے منسوخ یا مؤخر کر دیے ہیں۔
"لوگ خطے کی موجودہ صورتِ حال اور فضائی حدود کی بندش کے باعث سفر کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ وہ کسی بھی خطرے میں نہیں پڑنا چاہتے۔”
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران لبنان، اردن اور ایران سے آنے اور جانے والی کئی پروازیں منسوخ یا ری شیڈول کی گئی ہیں۔ ان پروازوں پر اثرات کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش ہے۔ اس سے نہ صرف براہِ راست پروازیں متاثر ہوئی ہیں بلکہ کنیکٹنگ پروازیں بھی مسافر چھوٹ رہے ہیں۔
ٹریول ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد وزٹ ویزے پر ہیں اور مستقبل کے سفری منصوبے واضح نہیں، وہ ویزا کی بروقت توسیع کروائیں۔
سبیئر نے کہا:
"اگر آپ اپنی واپسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں تو بہتر ہے کہ پہلے سے ویزا میں توسیع کی جائے، تاخیر کرنے سے جرمانے یا غیر ارادی اوور اسٹے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔”
ماہرین نے مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی پروازوں کے تازہ ترین شیڈول چیک کرتے رہیں اور کسی بھی نئی اطلاع کے لیے اپنے قونصل خانوں یا سفارت خانوں سے رابطے میں رہیں۔






