
خلیج اردو
پشاور – 3 جولائی 2025ء
پشاور ہائیکورٹ نے انڈس ہائی وے کی خراب صورتحال کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے تین ماہ میں سڑک کی مرمت مکمل کرنے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے این ایچ اے اور وفاقی حکام کو سخت ہدایات جاری کیں۔
دوران سماعت عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ انڈس ہائی وے جگہ جگہ سے خراب ہو چکی ہے، گڑھوں کی بھرمار ہے اور سفر انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے نے 2023 میں یقین دہانی کروائی تھی کہ چھ ماہ میں کام مکمل کر لیا جائے گا، لیکن اب تک کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ چھ مہینے کب مکمل ہوں گے؟ اور اگر صورتحال یہی رہی تو کیا ہم حکم جاری کریں کہ انڈس ہائی وے کو بند کر دیا جائے؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عوام ہر چیز پر ٹیکس دیتے ہیں، یہاں تک کہ ماچس کی ڈبی پر بھی، لیکن ان کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں۔
چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو متنبہ کیا کہ اگر تین ماہ کے اندر مرمتی کام مکمل نہ ہوا تو اس تاخیر کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔






