
خلیج اردو
کراچی: لیاری کے علاقے بغدادی میں گرنے والی رہائشی عمارت کے مقام پر 50 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ 27 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 مرد، 9 خواتین، 2 بچے اور ایک بچی شامل ہیں۔ تمام لاشیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کی آخری رسومات بھی ادا کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو اداروں نے جائے حادثہ کو کلیئر قرار دے دیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اب کسی کو بھی مقامِ حادثہ پر جانے کی اجازت نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس، اجلاس طلب
عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
"یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہو گا، اسے سزا دی جائے گی۔”
وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں 480 سے زائد عمارتیں مخدوش قرار دی جا چکی ہیں۔ ان عمارتوں میں رہنے والے مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ آئندہ کسی سانحے سے بچا جا سکے۔
ریسکیو اداروں کی جانفشانی
ریسکیو ذرائع کے مطابق، آپریشن میں ایدھی، چھیپا، فائر بریگیڈ، سندھ ریسکیو 1122، اور پاک فوج کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا، جبکہ ملبہ ہٹانے کے بعد تمام لاشوں کی شناخت ممکن ہو سکی۔
کراچی کے شہریوں میں غم و غصہ
واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مخدوش عمارتوں کی فوری نشاندہی اور خالی کرانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ انسانی جانیں ضائع نہ ہوں۔






