
خلیج اردو
کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں پسند کی شادی کے بعد مرد و خاتون کے سفاکانہ قتل پر حکومت اور عدلیہ نے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست قاتلوں کے ساتھ نہیں، بلکہ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قتل ہونے والے جوڑے کے درمیان کوئی ازدواجی رشتہ نہیں تھا، خاتون پانچ بچوں کی ماں تھی، اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نوبیاہتا جوڑے کی کہانی درست نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کسی طور پر وکٹم بلیمنگ (متاثرین پر الزام) کے حق میں نہیں اور انسان کی جان لینے کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق ویڈیو منظر عام پر آنے سے پہلے ہی واقعے کا نوٹس لے لیا گیا تھا، متعلقہ ڈی ایس پی کو معطل کیا جا چکا ہے، اور آئی جی بلوچستان کو حکم دیا گیا ہے کہ جو بھی ملوث پایا جائے، اسے گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
دوسری جانب چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے بھی دہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو کل عدالت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالتی حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں مقتولہ کی قبر کشائی بھی کی گئی۔
واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے، اور اب تک قتل میں ملوث مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار افراد میں ساتکزئی قبیلے کے سربراہ سردار شیر باز ساتکزئی، ان کے چار بھائی اور دو محافظ بھی شامل ہیں۔ عدالت نے مرکزی ملزم بشیر احمد کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ جرگہ عمائدین کی جانب سے کیا گیا منصوبہ بند قتل تھا، جس میں میاں بیوی کو دھوکہ دہی سے واپس بلوایا گیا اور بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔






