
خلیج اردو
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے بڑی گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور چھوٹی گاڑیوں کی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز نے سوال اٹھایا کہ ملک میں چھوٹی گاڑیاں غریب کی پہنچ سے دور اور بڑی گاڑیاں مالدار طبقے کیلئے سستی کر دی گئی ہیں، جو ناقابل فہم ہے۔
جواب میں وزارت تجارت کے جوائنٹ سیکرٹری نے مؤقف اپنایا کہ ایسا تاثر درست نہیں۔ ان کے مطابق:
-
850 سی سی تک کی گاڑیوں پر 55 فیصد ڈیوٹی عائد ہے
-
1300 سی سی پر 65 فیصد
-
1800 سی سی پر 75 فیصد ڈیوٹی لاگو ہے
انہوں نے مزید بتایا کہ چھوٹی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو 15 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ ماضی میں بڑی گاڑیوں پر 200 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ تھی۔ نئی ٹیرف پالیسی کے تحت بڑی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹی میں 90 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم اب بھی ان پر 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں تین سال سے زائد پرانی کاروں کی درآمد پر پابندی عائد ہے۔
قائمہ کمیٹی نے وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ نئی آٹو پالیسی میں چھوٹی گاڑیوں کو سستا بنانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔






