پاکستانی خبریں

نگران حکومت کے دوران گندم درآمد اسکینڈل، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں 300 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف

خلیج اردو: نگران حکومت کے دور میں گندم کی غیر ضروری درآمد کے معاملے پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں ہوش رُبا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ناقص منصوبہ بندی، اداروں کی سستی اور بدنیتی کے باعث قومی خزانے کو 300 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے صرف 24 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کی منظوری دی تھی، تاہم یہ مقدار بڑھا کر 35 لاکھ ٹن تک پہنچا دی گئی۔ اس وقت ملک میں گندم کی وافر مقدار موجود تھی، اس کے باوجود درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی ضرورت کو جان بوجھ کر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، جبکہ صوبہ پنجاب اور سندھ کی جانب سے فلور ملز کو دانستہ طور پر کم فنڈز جاری کیے گئے جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ آڈیٹر جنرل کی جانب سے بارہا نوٹسز بھجوائے گئے، تاہم متعلقہ اداروں نے کوئی جواب نہیں دیا، جس سے بدانتظامی اور بدنیتی کے شواہد مزید واضح ہو گئے ہیں۔

قومی سطح پر اس اسکینڈل کو ایک بڑا مالیاتی بحران قرار دیا جا رہا ہے، جس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button