خلیج اردو
20 اکتوبر 2020
اسلام آباد : پاکستان میں پیدا ہونے والے دو جڑواں بہنیں جن کے سر پیدائش کے وقت آپس میں جڑے ہوئے تھے ، گزشتہ برس ان کا لندن کے گیٹ اورمنڈ سٹریٹ پسپتال میں ایک کامیاب آپریشن ہوا اور انھیں الگ کیا گیا تھا، اب یہ دونوں بہیں واپس اپنے وطن آ گئی ہیں۔ دونوں بہنوں کے تین بڑے آپریشن ہوئے اور انھوں نے 50 گھنٹے سے زیادہ وقت آپریشن تھیٹر میں گزارنا پڑا۔
بچیوں کو فروری 2019 میں الگ کیا گیا تھا اور تب سے وہ لندن میں اپنی ماں اور ماموں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ایک پاکستانی تاجر مرتضیٰ لاکھانی ان آپریشن سمیت دیگر اخراجات کے لیے دس لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔گریٹ اورمنڈ سٹریٹ اسپتال کی 100 افراد پر مشتمل ایک ٹیم ان بچیوں کی دیکھ بھال پر معمور تھی۔ بچیوں کی عمر اب ساڑھے تین برس ہے اور باقاعدگی سے ان کی تھراپی جاری ہے تاکہ انھیں چلنے پھرنے میں مدد مل سکے تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ ابھی دونوں کو سیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دھڑ جڑے جڑواں بچے نہایت نایاب ہوتے ہیں اور ایسے پیدا پونے والے 20 جڑواں بچوں میں سے ایک جوڑے کے سر ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اسے میڈیکل کی زبان میں ’کارنیوپیگس ٹوئن‘ کہا جاتا ہے۔ ان بچوں کی اکثریت بچین میں ہی دم توڑ دیتی ہے۔
ان کی والدہ زینب بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے باقی خاندان میں واپس لے کر آئیں ہیں۔ وہ سرجری کرنے والی ٹیم کو ہیرو قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ان کے باقی سات بچے صفا اور مروہ کی دیکھ بھال میں مدد کے خواہاں ہیں۔
اس پیچیدہ سرجری کی سربراہی کرنے والے سرجن اویس جیلانی نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی ٹیم اس خاندان کے لیے ’بہت خوش‘ ہیں تاہم اس سرجری کے نتائج کے بارے میں انھیں ابھی بھی کچھ شکوک ہیں ان کا کہنا ہے کہ مروہ نے واقعی میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جب میں پورے خاندان کو دیکھتا ہوں تو ہاں یہ شاید صحیح کام تھا لیکن صفا کے بارے میں مجھے اتنا یقین نہیں۔ ڈاکٹر جیہلانی جو ایک ایک انتہائی تجربہ کار نیورو سرجن ہیں، اب بھی اپنے تقریباً ناممکن انتخاب کی وجہ سے پریشان ہیں جو ان کی ٹیم کو آپریشن تھیٹر میں کرنا پڑا۔
ان بچیوں میں مشترکہ خون کی نالیاں تھیں جس سے ان دونوں کے دماغوں کی پرورش ہوتی تھی۔ ان جڑواں بچیوں میں سے صرف ایک کو خون کی بعض اہم رگیں دی جا سکتی تھیں اور یہ مروہ کو دی گئیں جو کہ پیدائشی طور پر کمزور تھیں۔لیکن اس کے نتیجے میں صفا کو فالج ہو گیا جس سے اسکے دماغ کو مستقل نقصان پہنچا ہے اور شاید وہ کبھی نہیں چل سکیں گی۔
جنوری 2020 میں، گریٹ اورمنڈ سٹریٹ اسپتال کی اسی سرجیکل ٹیم نے ترکی سے تعلق رکھنے والے جڑواں لڑکوں یگت اور ڈرمین کو کامیاب آپریشن کے بعد الگ کیا تھا۔ان بھائیو کے بھی تین آپریشن کیے گئے لیکن یہ عمل صفا اور مروہ کے مقابلے میں بہت تیز تھا۔ یہ جڑواں بچے اپنی دوسری سالگرہ سے قبل ہی ترکی واپس لوٹ گئے اور ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان میں تیزی سے بہتری آئے گی۔
Source : BBC






