
خلیج اردو
اسلام آباد:بلیو ایریا اسلام آباد کے تاجروں کی جانب سے پی ٹی آئی کا احتجاج روکنے کیلئے درخواست پر سماعت عدالتی حکم پر وزیرداخلہ محسن نقوی اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔
عدالت نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ منسٹر صاحب میں عام طور پر وزرا کو نہیں بلاتا، آپ کی آمد کا شکریہ۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں پہلے بھی اس طرح کے پٹیشن آئی تھی ،پہلے بھی اس طرح کی صورتحال تھی، عام شہری کا کیا قصور ہے یہ بتائیں۔ ایک صوبے کے وزیر اعلی اس احتجاج کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
اس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ 24 نومبر کو بیلاروس کا ایک ڈیلیگیشن آرہا ہے ،ایک ریاستی سربراہ کا دورہ بھی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر انگیج کر سکتے ہیں ؟
جس پر محسن نقوی نے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے ہمارا چیف منسٹر سے رابطہ رہتا ہے ،تاجر عدالت آئے ہیں کہ ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے،یہ کیا بات ہوئی کہ اسلام آباد آ کر ہی احتجاج کرنا ہے؟ کہا جا رہا ہے کہ یہ جہاد ہے اور قبضہ کرنا ہے،،، احتجاج کرنا ہے تو یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں کریں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کینٹینر لگانا اور انٹرنیٹ بند کرنا اس کا حل نہیں۔آپ سیاسی جماعت کو انگیج بھی تو کرسکتے ہیں۔ محسن نقوی نے کہا کہ پچھلی دفعہ بھی ہمارا ایک بندہ شہید ہو گیا تھا۔ 26
نمبر چونگی پر 300 سے زائد افغان شہری نکلے تھے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سنبھالنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں عدالت نے مختصر آرڈر جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔






