
خلیج اردو
08 نومبر 2020
عاطف خان خٹک
اسلام آباد : اسلام آباد میں ایک نجی بینک کے اس افسر کو حراست میں لے لیا ہے جس پر اپنے ہی ادارے کی خاتون ملازم کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ اس حوالے سے ان کی نازیبا حرکات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔
اسلام آباد پولیس نے بنک منیجر کے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آئی جی اسلام آباد نے واقعے کا نوٹس لیا ہے جس کے بعد بنکر کو گرفتار کرکے مزید تفتیش شروع کی ہے۔
Bank harassment case update: IGP Islamabad takes notice of harassment case. The culprit involved in harassment has been arrested & shifted to the Police Station. Further legal action is being taken. @DigIslamabad#IslamabadPolice pic.twitter.com/AEqzxBAMWS
— Islamabad Police (@ICT_Police) November 7, 2020
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بھی ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں بتایا کہ مذکورہ شخص کو نوکری سے بھی برخاست کر دیا گیا ہے اور سٹیٹ بینک کے قواعد کے مطابق اب وہ کسی اور بینک میں ملازمت بھی نہیں کر سکے گا۔
Now that the culprit is arrested I appeal to everyone to please delete the video and help protect the privacy of the lady. https://t.co/pup7JIp0SF
— DC Islamabad (@dcislamabad) November 7, 2020
ملزم کی جانب سے خاتون کو دفتر میں جنسی طور پر پراساں کرنے کا واقعہ ایک ویڈیو میں سامنے آیا تھا جو سوشل میڈیا پر شائع ہونے کے بعد وائرل ہوا اور جس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا صارفین سے یہ درخواست بھی کی کہ ویڈیو میں جو خاتون موجود ہیں ان کی شناخت کا تحفظ کریں۔
I request everyone to plz delete the video of Feysal Bank incident. We are already on it. We have all the evidence. Investigation is under process.
— Muhammed Hamza Shafqaat (@hamzashafqaat) November 7, 2020
بینک کی ملازم اس خاتون کو ہراساں کیے جانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر حکام سے مذکورہ شخص کے خلاف کارروائی کا زوروشور سے مطالبہ کیا گیا جس کے بعد وفاقی وزیرِ برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ اس شخص کے خلاف فوری ایکشن ہونا چاہیے کیونکہ اس کی حرکت کا ثبوت موجود ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر کو پیغام بھیج دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک گھٹیا حرکت ہے لیکن انھیں اس سے دھچکا نہیں لگا کیونکہ ایسے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
Action against this man needs to be taken asap as evidence is there – Have msgd @dcislamabad also. Disgusting but not shocking bec many incidents like this continue to happen. Law will come into play but it is mindsets that must change if we are to stop abuse of women & children https://t.co/r8RkTm93QG
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) November 7, 2020
مزاری کا کہنا تھا کہ ’قانون حرکت میں آئے گا لیکن اگر ہم خواتین اور بچوں سے بدسلوکی روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘
واقعے پر نجی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کام کی جگہ پر خاتون کو ہراساں کرنے کے واقعے کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ بینک کے مطابق ملزم اہکار کو فوری نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ بینک نے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ملزم کو بینک مینیجر بتایا گیا ہے جبکہ وہ مینیجر نہیں بلکہ ایک اہلکار ہے.۔
Source : BBC Urdu






