
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کی جانب سے کی جانے والی فضائی جارحیت کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے نہ صرف پانچ جنگی طیارے مار گرائے بلکہ دنیا کی فضائی جنگ کی تاریخ میں سب سے بڑی "ڈاگ فائٹ” کا اعزاز بھی حاصل کر لیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور پاکستان فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف آپریشنز ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی جارحیت کے تمام شواہد اور تفصیلات پیش کیں۔
ترجمان پاکستان فضائیہ نے بتایا کہ ایک بھارتی رافال طیارے کو لائن آف کنٹرول کے اندر سری نگر کی حدود میں 154 کلومیٹر اندر مار گرایا گیا۔ اسی طرح بھارتی SU-30 طیارے کو بھی لائن آف کنٹرول کے اندر نشانہ بنایا گیا۔ پاک فضائیہ نے ایک اور رافال طیارے کو ایل او سی کے اندر کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ ایک رافال طیارے کو انٹرنیشنل بارڈر پر نشانہ بنایا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ڈاگ فائٹ میں بھارت کے ساٹھ جنگی طیاروں نے حصہ لیا جن میں سے 14 رافال شامل تھے۔ یہ فضائی لڑائی دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈاگ فائٹ کے طور پر جانی جائے گی۔
ایئر وائس مارشل اورنگزیب نے بتایا کہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب بارہ بج کر دس منٹ پر بھارتی طیارے پاکستانی سرحد کے قریب پہنچے۔ صرف دو منٹ بعد پاکستان فضائیہ متحرک ہو چکی تھی اور ساڑھے بارہ بجے تک ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ ایک بڑی فضائی جنگ ہونے جا رہی ہے۔ اس لڑائی میں پاکستان کی جانب سے 42 جنگی طیارے میدان میں اترے، جن میں J-10C، JF-17 اور F-16 شامل تھے، جو مکمل طور پر بھارتی حملے کا جواب دینے کے لیے سرحد پر پھیل چکے تھے۔
ایئر وائس مارشل کے مطابق بھارت کے حملے کو ناکام بنانے کے بعد پاک فضائیہ نے فوری طور پر حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بھارتی طیاروں کو فضا میں ہی نشانہ بنانا شروع کیا۔ ہمارا فوکس رافال طیارے تھے۔ اس لڑائی میں کل تین رافال طیارے گرائے گئے جن میں سے ایک بھٹنڈہ، ایک جموں اور ایک سری نگر کے اندر گرا۔ اس کے علاوہ بھارتی SU-30 اور Mig-29 طیارے بھی سری نگر میں تباہ ہوئے۔ یہ تمام طیارے پاکستانی سرحد سے 13 سے 23 ناٹیکل مائلز کے اندر تھے۔
ڈپٹی چیف آف آپریشنز نے کہا کہ یہ جدید طرز کی فضائی جنگ تھی جس میں الیکٹرانک فٹ پرنٹ چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس بھارتی طیاروں کے گرنے کے تمام شواہد اور ملبے کی جگہوں کی درست معلومات موجود ہیں۔ انہوں نے وہ تمام تصاویر اور نقشے بھی میڈیا کو دکھائے جن سے بھارتی طیاروں کے گرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔
مزید برآں، انہوں نے بھارتی پائلٹس کی آپس کی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سنوائی، جس میں بھارتی رافال طیارے کے پائلٹ کے گرنے کے بعد دیگر پائلٹس اپنی فارمیشن ’گوڈزیلا‘ کو آواز دے رہے تھے، کہ "گوڈزیلا ون، آپ موجود ہیں؟” لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ایئر وائس مارشل نے کہا کہ ہمارے پاس ان کی مکمل گفتگو ریکارڈ میں موجود ہے اور ہم پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ان کے پانچ مخصوص طیارے گرائے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فضائی جھڑپ دنیا کی جنگی نصاب کا حصہ بنے گی۔ یہ پہلی بار ہوا کہ "بی وی آر فائٹ” یعنی Beyond Visual Range لڑائی ہوئی جو مستقبل میں دنیا بھر کی ایئر فورسز میں پڑھائی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بریفنگ کے دوران واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوا۔ اگر کسی تیسرے ملک کے ذریعے پیغام رسانی ہوئی ہے تو اسے براہ راست رابطہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ سفارت کاری میں ایسے بالواسطہ رابطے معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک پاکستان کی سالمیت خطرے میں ہے اور جب تک اس جنگ میں شہید ہونے والے 33 سویلین افراد کے خون کا حساب نہیں ہو جاتا، پاکستان حالتِ جنگ میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اگر یہ شوق ہے کہ پاکستان اس پر حملہ کرے تو ہم ان کی یہ خواہش پوری کر سکتے ہیں۔ "جب ہم جواب دیں گے تو انڈین ٹی وی چینلز کو کچھ رپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، یہ آواز ہر جگہ سنی جائے گی۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا ایک بھی ڈرون واپس نہیں جا سکا اور ہم آئندہ بھی کوئی ڈرون واپس جانے نہیں دیں گے۔ پاکستان اپنی سالمیت کا ہر حال میں دفاع کرے گا۔






