خلیج اردو
23 ستمبر2020
اسلام آباد: افواج پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو ملاقاتیں کیں ہیں۔ ایک ملاقات اگست اور دوسری ستمبر کے پہلے عشرے میں ہوئی ہے جس میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔
نجی ٹی وی سے نپی تلی گفتگو میں جنرل بابر نے کہا ہے کہ لیگی رہنما محمد زبیر نے دونوں ملاقاتوں میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے حوالے سے گفتگو کی جس کا آرمی چیف نے یہ جواب دیا کہ اس خاندان کے قانونی مسائل کا حل عدالتوں کے پاس ہے جبکہ سیاسی مسائل کے حل کیلیے پارلیمنٹ ہے اور فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔
مذکورہ ملاقات کے حوالے سے سنیئر صحافی طلعت حسین نے ایک روز قبل ٹویٹ کی تھی اور ان کے یوٹیوب چینل پر موجود وی لاگ میں اس کی تفصیل بھی جاری کی تھی۔
Nawaz Sharif’s special emissary met Gen Bajwa early Sept with the message that N League had been pushed against the wall and it will take no more. He was bluntly told that the Imran govt will continue the same way. The meeting lasted for 2 hours. DG ISI also participated. https://t.co/iJpL3adcYO
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) September 22, 2020
طلعت حسین نے وی لاگ میں بتایا تھا کہ اس ملاقات میں نواز شریف کے نمائندے اور آرمی چیف کے درمیان کسی بات پر اتفاق نہیں ہوا اور جہاں آرمی چیف نظام کو جوں کا توں رہنے پر تلے رہے وہاں نواز شریف کا نمائندہ اسٹبلشمنٹ مخالف نواز شریف کے بیانیے پر کسی لچک کا مظاہرہ کرتے دیکھائی نہیں دیئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے جاری بیان جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملاقات محمد زبیر کی درخواست پر ہوئیں تھیں، کے بعد محمد زبیر نے ایک نجی ٹی وی کو اپنا موقف دیتے ہوا بتایا کہ ان کی آرمی چیف سے ملاقاتیں ضرور ہوئیں ہیں تاہم وہ نواز شریف کا نمائندہ بن کر نہیں گیا تھا اور ملاقاتیں ذاتی حثیت میں کیں تھیں۔
ان ملاقاتوں کا چرچا آج صبح سے اسلام آباد کے مختلف حلقوں میں رہا۔ جب مریم آج اسلام آباد ہائیکورٹ آئیں تو اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں ایسے کسی ملاقات کی تردید کی۔
محمد زبیر بھی میڈیا نمائندوں کے سامنے آئے تو ایک صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کیسے جان سکتے ہیں کہ کس کی آرمی چیف سے کوئی ملاقات ہوئی ہے یا نہیں۔







