پاکستانی خبریں

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی میں مہنگی بجلی پر بحث، وزیر توانائی کی منطق نے اراکین کو حیران کر دیا

خلیج اردو
اسلام آباد، 8 جولائی 2025 — قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے بلوں کے مسئلے پر گرما گرم بحث کے ساتھ منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کے نرخوں سے متعلق انوکھی منطق پیش کی، جس پر اراکین کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا۔

اویس لغاری نے کہا کہ "بجلی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ استعمال کم ہے، جب بجلی کا استعمال بڑھے گا تو نرخ خودبخود کم ہوں گے۔” ان کا مؤقف تھا کہ بجلی کی تقسیم اور لاگت کا بوجھ کم صارفین پر پڑ رہا ہے، اس لیے قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

رکن کمیٹی رانا سکندر حیات نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور کچی آبادیوں میں آج بھی بجلی کے کنکشن نہیں دیے گئے، جہاں بجلی چوری ایک معمول بن چکی ہے۔ اس پر وزیر توانائی نے وضاحت کی کہ بجلی کے کنکشن صرف اس وقت فراہم کیے جا سکتے ہیں جب مقامی اتھارٹی یا متعلقہ انتظامیہ باضابطہ طور پر درخواست دے۔

بجلی چوری کے اعداد و شمار پر بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ سالانہ تقریباً 250 ارب روپے کی بجلی چوری ہو رہی ہے، جبکہ باقی نقصان بلوں کی عدم ادائیگی سے ہے، جو کہ مجموعی طور پر ایک بڑا بوجھ بن چکا ہے۔

رکن کمیٹی ملک انور تاج نے 200 اور 201 یونٹس کے فرق پر بھاری بل کی شکایت پر بات کی اور مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو باقاعدہ کمیٹی ایجنڈے میں شامل کیا جائے، کیونکہ صارفین کو صرف ایک یونٹ کے اضافے پر غیر متناسب بل بھیج دیے جاتے ہیں۔

اجلاس کے دوران اراکین نے اتفاق کیا کہ بجلی کے بل، کنکشن اور چوری جیسے مسائل عوامی سطح پر شدید غصے اور بداعتمادی کا سبب بن رہے ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button