
خلیج اردو
لاہور: ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز کے سلسلے میں پاکستان میں موجود غیر ملکی خواتین کرکٹرز نے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی، لاہور کی ثقافت، تاریخی ورثے اور مقامی کھانوں کو بے حد سراہا ہے۔
خواتین کھلاڑیوں نے کہا کہ انہیں لاہور کی گلیوں میں گھومنا، تاریخی مقامات دیکھنا اور پاکستانی روایتی کھانے چکھنا ایک یادگار تجربہ محسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی میزبانی نہایت گرمجوش اور خلوص سے بھرپور ہے، جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گی۔
ویمن پلیئرز نے یہ بھی کہا کہ لاہور کی ثقافت اور تاریخ دل کو چھو لینے والی ہے، جبکہ پاکستانی کھانوں کے ذائقے نے ان کے دل جیت لیے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے ذاتی طور پر تمام کھلاڑیوں اور حکام کا استقبال کیا، اور اس موقع پر ایک گروپ فوٹو بھی بنوایا گیا۔
محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ لاہور پاکستان آنے والی تمام ٹیموں کو دل سے خوش آمدید کہتا ہے اور آپ سب ہمارے خصوصی مہمان ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن، محفوظ اور کرکٹ سے محبت کرنے والا ملک ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ لاہور میں کھلاڑیوں کا قیام خوشگوار اور یادگار ہوگا۔
غیر ملکی کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز نے لاہور کے تاریخی ورثے کا دورہ کیا، جس میں بادشاہی مسجد، حضرت اقبال کا مقبرہ، ہزارہ باغ اور شیش محل شامل تھے۔
پاکستان، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، اور تھائی لینڈ کی خواتین کرکٹرز کو ویمنز ورلڈ کپ کوالیفائرز کے دوران لاہور میں شاہی مہمانوں کی طرح پرتپاک استقبال کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں روایتی میزبانی، تقریباً مجلسی گارڈز اور مغلیہ دور کے لباس میں ملبوس عملے کی موجودگی میں عزت دی گئی۔
پاکستان میں خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے یہ ایونٹ نہ صرف اہم ثابت ہو رہا ہے بلکہ غیر ملکی ٹیموں کی جانب سے پاکستان کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنا بھی کھیل اور سفارتی سطح پر خوش آئند پیش رفت ہے۔






