پاکستانی خبریں

امریکی صدر کے ایران جنگ سے متعلق متنازع بیانات، فوجی طاقت، آبنائے ہرمز اور قیادت پر بڑے دعوے، عالمی سطح پر تشویش اور سفارتی تناؤ میں اضافہ

خلیج اردو
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے سترہویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس میں ایران پر حملوں، فوجی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر متعدد دعوے کیے۔

ایران کی عسکری صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ اور بحریہ "ختم ہو چکی ہیں”، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک سات ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں تجارتی اور فوجی مقامات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا "آج امریکا نے میزائل اور ڈرون بنانے والی تین تنصیبات پر حملہ کیا”، جبکہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے میں سو سے زائد ایرانی بحری جہاز تباہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں نوے فیصد اور ڈرون حملوں میں پچانوے فیصد کمی آئی ہے۔

جزیرہ خارگ اور Strait of Hormuz کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جزیرہ خارگ پر حملے میں تقریباً سب کچھ تباہ کر دیا گیا، جبکہ پائپ لائنز کو اس لیے محفوظ رکھا گیا کیونکہ ان کی تعمیر میں طویل وقت لگتا ہے۔

انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کریں، اور کہا کہ امریکا اس راستے سے ایک فیصد سے بھی کم تیل حاصل کرتا ہے جبکہ جاپان اور چین اس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا "ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن مجھے نہیں معلوم وہ تیار ہیں یا نہیں”، جبکہ ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایرانی قیادت کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کہا "کچھ لوگ کہتے ہیں وہ شدید زخمی ہیں، کچھ کہتے ہیں وہ مر چکے ہیں”، تاہم ایرانی حکام کے مطابق نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei معمولی زخمی ہونے کے باوجود کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے یہ بیانات نہ صرف متنازع ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور سفارتی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button