وزیرمذہبی امور نورالحق قادری نے بتایا ہے کہ 15 مئی تک فیصلہ ہوجائے گا کہ اس سال حج ہوگا یا نہیں۔
وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے حج ادائیگی سے متعلق اہم بیان دیا ہے کہ رواں سال حج ہوگا یا نہیں اس حوالے سے 15رمضان المبارک تک فیصلہ ہوجائے گا۔
وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ سعودی وزارت حج سے مسلسل رابطےمیں ہیں، سعودی وزارت حج نے ابھی تک حج معاہدوں سے روک رکھا ہے۔
نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ حج ادائیگی سے متعلق مختلف آپشنز سعودی حکومت کے زیرِغور ہیں، پاکستان سے مشاورت کرکے سعودی عرب حتمی فیصلہ کرے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ تاریخ میں 40 سے زائد مرتبہ حج مکمل یا جزوی طور پرمؤخر ہوا،اگر حالات بہتر ہوجائیں تو حج ہوگا۔
دو ہفتے قبل سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر بنتن نے دنیا بھر کے مسلمان ممالک سے کہا تھا کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال واضح ہونے تک حج اور عمرہ سے متعلق معاہدے نہ کریں۔
سعودی نیوز چینل کو دیئے گئے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ عازمین حج و عمرہ کی سلامتی ہرچیز پرمقدم ہے،ہم نےان لوگوں کو رقوم واپس کردیں جنہوں نےعمرہ ویزا حاصل کیا لیکن عمرہ نہیں کیا،جب تک حالات ٹھیک نہیں ہوتے،دنیا صبر سے کام لے۔
اسلامی تاریخ میں بیماری، کسی تنازع یا دیگر وجوہات کی بنا پرحج کو متعدد بار منسوخ کیا گیا۔
سعودی شاہ عبد العزیز فاؤنڈیشن برائے ریسرچ کے مطابق 40 مرتبہ ايسا ہوا جب حج کو منسوخ کردیا گیا تھا۔10 ویں صدی عیسوی ميں خانہ کعبہ پر قبضے کے بعد پہلی بار حج منسوخ کيا گيا۔930 ء میں حج سیزن کے دوران مکہ پرحملہ ہوا جس کے بعد 10 سال تک حج نہ ہوسکا۔865 ء میں مکہ ميں عازمين کے قتل عام کے بعد ايک بار پھرحج کو روک ديا گيا۔1831 میں ہندوستان سے پھيلنے والی وبا طاعون سے سينکڑوں حاجی شہيد ہوئے۔
کنگ عبد العزیز سینٹر کے مطابق1837 سے1892 کےدرمیان روزانہ کی بنیاد پر انفیکشن نے سینکڑوں حاجیوں کو شہيد کردیا۔ اس دوران بھی حج جيسے مقدس فريضے کو کئی بار روک دیا گیا
Source: Sama News
April 4,2020






