
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان میں شمالی مغربی صوبے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے ملٹری سربراہ سے یہ سوال کر چکے ہیں کہ گولی کیوں چلائی۔
گولی کیوں چلائی وہ سوال ہے جو پاکستان تحریک انصاف بطور جماعت گزشتہ سال 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج پر سیکیورٹی اداروں کی مبینہ فائرنگ کے بعد سے پوچھا جارہا ہے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علی امین خان نے کہا کہ گولی کیوں چلائی کے حوالے سے بار بار آرمی چیف سے بھی سوال کیا ہے۔آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت کے ماتحت آتے ہیں۔
علی امین نے کہا کہ آرمی چیف کے مطابق وفاقی حکومت نے آرٹیکل 245 نافذ کیا تھا اور اس کے تحت جو کچھ بھی ہوا وہ حکومتی احکامات پر ہوا۔
علی امین نے بطور وزیراعلیٰ اپنی کارکردگی کو باقی صوبوں سے بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پختونخوا حکومت کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ پرنٹ ہو چکی ہے۔آپ سب اس رپورٹ کے اعداو شمار کا جائزہ لیں، جھوٹ سچ خود دیکھیں۔رپورٹ دیکھنے کے بعد ہماری کارکردگی کا دوسروں سے موازنہ کریں۔
مسٹر امین نے کہا کہ میں اس رپورٹ پر مناظرے کے لیے بھی تیار ہوں،دعوے سے کہتا ہوں کہ ہماری کارکردگی کے مقابلے میں باقیوں کی کارکردگی ایک فیصد بھی نہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گالیوں کے حوالے سے میری جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں عمران ریاض خان کا نام ایڈٹ ہے۔ گالیاں میں نے دی ہیں لیکن کسی اور شخص کو دی ہیں اور وہ یہ ڈیزرو کرتا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا حصہ بننے کی پارٹی نے ہدایت کی تو پارٹی ہدایات کا پابند ہوں۔
تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش کی کابینہ میں شمولیت کے سوال پر علی امین نے کہا کہ یہ ان کا اور بانی پی ٹی آئی کا معاملہ ہے






