
خلیج اردو
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نومئی واقعات سے متعلق تحریک انصاف کے سینیٹر اعجاز چودھری کی ضمانت کی درخواست کی سماعت ہوئی، جس دوران حکومت نے عدالت کے روبرو اعجاز چودھری کی ایک ویڈیو بطور ثبوت پیش کی، جس میں انہیں کارکنوں کو اکساتے ہوئے دکھایا گیا۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ جو شواہد دیئے گئے ہیں وہ صرف ایک ٹی وی انٹرویو پر مشتمل ہیں۔ اس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ "بے شک وہ انٹرویو ہے لیکن آپ کا موکل نوجوانوں کو اکسا رہا تھا”۔
جسٹس شفیع صدیقی نے استفسار کیا کہ "ایک انٹرویو 17 مئی کا ہے اور ایک آڈیو 10 مئی کی، اگر اکسانے کا کیس ہے تو نو مئی یا اس سے پہلے کا کوئی ثبوت پیش کریں”۔
دوسری جانب وکیل لطیف کھوسہ نے ٹرائل چار ماہ میں مکمل کرنے کے عدالتی حکم پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ نومئی کے واقعات پر 500 سے زائد مقدمات درج ہوئے اور 24 ہزار ملزمان مفرور ہیں، اس صورتحال میں چار ماہ کا وقت ٹرائل کو متاثر کرے گا۔
چیف جسٹس نے اس پر ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالتوں میں مقدمات کی روزانہ سماعت ہونا چاہیے، اور عدالت کی جانب سے دی گئی چار ماہ کی مدت میں ملزمان کے قانونی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نومئی کے ایک مقدمے میں نامزد ملزم شیخ امتیاز کی ضمانت منظور کر لی۔ چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ سازش جیسے الزامات پر کسی فرد کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔
مزید برآں، نومئی سے متعلق تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی فواد چوہدری کی درخواست پر سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا۔






