پاکستانی خبریں

آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان بجٹ پر ڈیڈ لاک برقرار، ترقیاتی پروگرام پر اعتراضات، وزیراعظم نے 500 منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں

خلیج اردو
اسلام آباد – حکومت پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال 2025-2024 کے بجٹ پر ڈیڈ لاک برقرار ہے، جب کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام سمیت متعدد بجٹ اہداف پر آئی ایم ایف نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ترقیاتی منصوبوں کے حجم اور ان کے مالی بوجھ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبوں کا تھرو فارورڈ 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، جو بجٹ خسارے میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت منصوبہ بندی سے 500 ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں تاکہ غیر ضروری یا غیر فعال منصوبوں کو بجٹ سے خارج کیا جا سکے۔

ادھر ترقیاتی بجٹ کا حتمی فیصلہ کرنے میں بھی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ وزارت خزانہ اور وزارت منصوبہ بندی کے درمیان بجٹ اہداف کے تعین پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس اختلاف کے باعث آج ہونے والا سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ خسارہ، سبسڈیز اور غیر ہدفی اخراجات پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے، جب کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ایک متوازن اور آئی ایم ایف کی شرائط سے ہم آہنگ بجٹ پیش کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button