
بھارت چین کشیدگی اور پاکستانی قوم
خلیج اردو 09- جولائی-2020ء
|سید اظفر علی حسن|

چند دن پہلے چین کے لداخ پر قبضے کا چرچا زبان زد عام رہا اور کیوں نہ ہوتا کہ خود کو ایشیاء کا ٹائیگر کہنے والا آج چین سے ذلت آمیز شکست کھا چکا ہے. دعا ہے چین کی فتوحات کا یہ سلسلہ جاری رہے اور دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکے.
جہاں چین کے لداخ پر قبضے کی خبر سوشل میڈیا کی زینت بنی رہی وہاں ساتھ موجودہ حکومت کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی چلایا جاتا رہا کہ چین نے لداخ کو شہ رگ نہیں کہا مگر اس پر قبضہ کر لیا اور ہم کشمیر میں فوج نہ بھیج سکے اس لیے کہ ہم جنگ سے ڈر گئے. اس طرح کے کئی بیانات سے عوام کے سامنے حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی . حکومت نے ٹھیک کیا یاغلط کیا اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا مگر سیاسی حکمت سے نابلد ہم پاکستانی قوم جذباتیت میں اپنی مثال آپ ہیں.
ہم یہ شکوہ تو کرتے ہیں کہ پاکستان کو کشمیر میں فوج بھیجنی چاہیے تھی. مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ کشمیر سے زیادہ پاکستان کے اندر پاکستان کے دشمن ہیں. ہم افواجِ پاکستان کو کشمیر کی خاطر بھارت پر حملہ کرنے کا مشورہ اول دن سے دے رہے ہیں مگر ماضی میں ہم عوام کشمیر کی خاطر کتنے متحرک رہے،کیا کسی عوامی گروپ نے کشمیر کمیٹی سے کشمیر پر کوئی بات چیت کی. کشمیر کمیٹی کا اس سلسلے میں کیا کردار تھا، کیا ہم نے کشمیر کمیٹی سے مسئلہ کشمیر پر حساب مانگا، 5 فروری کے علاوہ کبھی مسئلہ کشمیر پر کوئی بات چیت کی شاید ان سوالوں کا جواب ہم کبھی نہ دے سکیں.
پاکستانی حکومت کو چین جیسا بننے کی نصیحت تو کرتے ہیں مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کو چین جیسا مضبوط بنانے کیلئے ہم عوام کی کیا کیا ذمہ داریاں ہیں . ہم میں سے اکثریت شاید چین کے جغرافیہ سے بھی آشنا نہ ہو. چین آج ورلڈ سپر پاور بننے جارہا ہے مگر ورلڈ سپر پاور بننے کے لیے چینی حکومت اور چینی عوام نے جتنی محنت کی کیا ہم پاکستانی عوام اتنی محنت کر سکتے ہیں.چین آج سپر پاور اپنی تجارت کے بل بوتے پر ہے.پوری دنیا میں چینی مصنوعات کروڑوں انسانوں کی ضروریات پوری کر رہی ہیں. کم قیمت اور بہترین معیار چینی قوم کی ایمانداری اور حُب الوطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے.
اس کے برعکس ہم لوگ بکرے کے گوشت میں وزن بڑھانے کے لیے پانی انجیکٹ کرتے ہیں. زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کر رہے ہیں. ہر کھانے والی چیز ملاوٹ سے بھرپور استعمال کرتے ہیں. بچوں کو پلانے والے دودھ میں مردے محفوظ کرنے والے کیمیکلز استعمال کرتے ہیں. سکولز اور کالجز کی کینٹینز میں طلباء و طالبات کے لیے غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ اشیاء بیچتے ہیں. بکرے کے گوشت کی جگہ گدھے کا گوشت فروخت کرتے ہیں. سرخ مرچ کے نام پر لکڑی کا برادہ فروخت کرتے ہیں. دودھ میں پانی ملا کر بیچنا فرضِ عین سمجھتے ہیں. قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت میں بھی بے ایمانی سے کام لیتے ہیں. غرض ہم اپنے ہی ملک میں اپنے ہی ہموطنوں کے ساتھ ملاوٹ شدہ اشیاء کی تجارت کر رہے ہیں.
حالانکہ حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے.
جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ "
چین کے سپر پاور بننے میں دوسری سب سے اہم چیز تعلیمی میدان میں ترقی ہے. آج چین دنیا میں بہترین تعلیم فراہم کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے. آج ٹیکنالوجی کے میدان میں چین قابلِ ذکر حد تک ترقی کر چکا ہے. اور یہی چیز رفتہ رفتہ چین کو ناقابل شکست بناتی جارہی ہے اس کی ایک بہت بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ وہاں ٹیکنالوجی کی تخلیق اور استعمال کو خلاف شریعت نہیں سمجھا جاتا.
اسی لئے آج وہ قوم اپنی آزادی کا دفاع نہایت جرات مندی سے کر رہی ہے. عالمی سیاست میں چین کی رائے خاصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اقوام متحدہ جیسا ادارہ چین کی چین کی رضامندی کا محتاج ہوتا ہے۔
تیسری بات جو چین کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے وہ ماوزے تنگ صاحب کا ایک فرمان ” اپنی قوت پر انحصار کرو” ہے. چین اپنی مصنوعات بنا کر اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری اقوام کو بھی بھیجتا ہے اور اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ اپنی بنائی اشیاء دنیا کے طول و عرض میں پہنچا رہا ہے دوسری طرف ہم اول تو ایک لمبا عرصہ اپنے رہنماؤں قائداعظم اور سر سید احمد خان کو مسلمان ہی قبول نہ کرسکے اور دوسرا ان کے بتاۓ کسی بھی اصول پر عمل نہ کر سکے. آج ہم قائد اعظم اور علامہ اقبال جیسی عظیم شخصیات کو اپنے مذاق میں استعمال کرتے ہیں،
ہمارےبچے اپنے کورس کی کتابوں پر بنی قائد اور اقبال کی تصاویر کے ساتھ شرمندہ کردینے والا رویہ اپناتے ہیں. زندہ قومیں تو اپنے راہنماؤں کے ذکر کو بھی باعثِ افتخار سمجھتی ہیں مگر شاید ہم زندہ تو دور کی بات ایک قوم ہی نہیں بلکہ صرف ایک ہجوم ہیں جس کی کوئی منزل ہی نہیں
. پاکستان کامطالبہ قرآن و سنت کے مطابق ایک معاشرے کے قیام کے لئے کیا گیا اور بلاشبہ قرآن ہمارا رہنما ہے مگر قرآن تو ہمیں کم تولنے سے منع کرتا ہے اور ہم کم تولتے ہیں. قرآن ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں انصاف کا حکم دیتا ہے جبکہ ہم انصاف سے مراد صرف عدالت سے انصاف لیتے ہیں. قرآن ہمیں فرقہ واریت سے منع کرتا ہے اور ہم اپنے اپنے فرقے پر فخر کرتے ہیں. قرآن ہمیں عورت کی عزت کا حکم دیتا ہے اور ہم عورت کو اپنی گالیوں میں استعمال کرتے ہیں. قرآن ہمیں ملاوٹ سے منع کرتا ہے مگر ملاوٹ کرنے میں ہم لوگ اپنی مثال آپ ہیں. قرآن گھریلو ملازمین کے ساتھ بہترین سلوک کا حکم بلکہ تاکید کرتا ہے مگر آۓ روز گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں. آج ہمارے ملک میں کڑیل جوان بے گناہ مقتولین کی مائیں اپنے بچوں کے قاتلوں کو صرف اس وجہ سے معاف کردیتی ہیں کہ قاتلین طاقتور ہوتےہیں اور وہ کمزور.جبکہ چین جیسے ملک میں جب کسی فرد کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو اسے اپنے عدالتی نظام پر اتنا اعتبار ہوتا ہے کہ وہ زیادتی کرنے والے سے کہتا ہے ” میں تمھیں عدالت میں پوچھوں گا”
ترقی کا راز اس چیز میں بھی مضمر ہے کہ چینی قوم کو اپنی زبان و ثقافت کے ساتھ والہانہ پیار ہے. گو کہ چین میں غیر ملکی طالبعلموں کو انگلش میں پڑھایا جاتا ہے مگر انہیں چینی زبان بھی سکھائی جاتی ہے. ان کا ہدف جلد از جلد چینی زبان کو ایک بین الاقوامی زبان بنانا ہے. اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں انگریزی زبان کو قابلیت اور علم و دانش کی علامت سمجھا جاتا ہے. ایک تعلیم یافتہ اردو بولنے والا انسان وہ عزت نہیں حاصل کر پاتا جو ایک انگریزی بولنے والا کم پڑھا لکھا شخص (حاصل) کرتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ہم شاید جسمانی طور پر تو آزاد ہوں مگر ذہنی طور پر آج بھی برطانیہ کی غلامی سے نہیں نکلے. اس سلسلے میں ایک اور چیز کہ چینی لوگ اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں. آج جن جن ممالک میں چائنہ ٹاونز بناۓ گئے وہاں اہل چین دوسری سرزمین پراپنی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں مگر ہم اپنی ہی سرزمین پر اپنی ہی ثقافت کو قدامت پسندی سمجھتے ہیں. غیر ملکی طرزِ زندگی کو جدت کا نام دیتے ہوئے اپنے ثقافتی ورثے کی موت کا پروانہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں
. یہی وجہ ہے کہ آج ہم دنیا کی تمام اقوام سے ہر میدان میں پیچھے ہیں. تعلیمی، معاشی، اخلاقی غرض زندگی کے ہر میدان میں دنیا کی سب سے ناکام قوم بن چکے ہیں. مگر وہ مصرعہ آج بھی ایک امید دلاتا ہے کہ
” ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”.
آج بھی اگر ہم اسلام کے سنہری اصولوں کو اپنا لیں تو بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے. ہم میں سے ہر فرد اپنی نجی زندگیوں میں انصاف کرنا شروع کر دے تو عدالتی نظام خودبخود ٹھیک ہو سکتا ہے . ہم تمام چیزوں(خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء) میں ملاوٹ کرنا چھوڑ دیں تو معاشرہ بہت ساری اخلاقی اور جسمانی بیماریوں سے محفوظ ہو سکتا ہے . اپنے فرقوں پر فخر کی بجائے اپنے مسلمان ہونے پر فخر کریں تو معاشرے کے اندر ایک پیار، محبت، بھائی چارے اور ایثار کی فضاء پیدا ہو سکتی ہے. ایمانداری کی حوصلہ افزائی اور بے ایمانی کی حوصلہ شکنی کریں تو نوجوان نسل پر محنت اور دیانتداری کی اہمیت واضح کی جا سکتی ہے . ووٹ دیتے وقت امیدوار کے کردار اور عوامی مفادات کو سامنے رکھا جائے تو ہم بہترین اور صاحبِ کردار لوگ اسمبلیوں میں بھیج سکتے ہیں کیونکہ حکومت اور قانون سازی کرنے والے کے لیے صاحبِ کردار اور عوامی مفادات کا حامی ہونا نہایت ضروری ہے.
اقوام مضبوط تب بنتی ہیں جب قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرے. جب افراد ایک دوسرے کا سہارا بن کر آ گے بڑھیں. جب ریاست اور عوام کا مفاد ایک ہو. قوم کا اک اک فرد خواہ وہ عوام میں سے ہے یا حکمرانوں میں سے قوم کے عروج و زوال کا براہ راست ذمہ دار ہوتا ہے.
اقبال اس سلسلے میں بڑا خوبصورت فرماتے ہیں کہ
"افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا اور وطنِ عزیز کا حامی و ناصر ہو. آمین ثم آمین
نوٹ(خلیج اردو کا کالم نویس کی رائے سے متفق ہونا لازمی نہیں)






