
خلیج اردو
لاہور، 18 اپریل 2025
قصور میں مبینہ ڈانس پارٹی کیس کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایس ایچ او اور دو کانسٹیبلز کو قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے دوران تھانوں میں زیر حراست ملزمان کے میڈیا انٹرویوز پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
جسٹس علی ضیا باجوہ نے واضح ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انڈر کسٹڈی افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کرنا قانون کے خلاف ہے اور ان کی ٹنڈیں کرنا توہین آمیز رویہ ہے جسے کسی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ اس نوعیت کے واقعات کی صورت میں متعلقہ ایس پی کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
عدالت کا مؤقف تھا کہ زیر حراست افراد کو انسانی وقار کے مطابق حقوق حاصل ہیں، جن کی پامالی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت کی جانب سے یہ احکامات آئندہ کے لیے ایک واضح پیغام سمجھے جا رہے ہیں تاکہ پولیس تحویل میں کسی بھی شخص کی تضحیک یا غیر قانونی سلوک کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔







