
خلیج اردو
اسلام آباد:نامور پاکستانی اداکارہ مریم نفیس نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ہاں برطانیہ میں بیٹے کی پیدائش کے وقت ان کی اور بچے کی دیکھ بھال کے لیے 14 ماہر ڈاکٹرز دستیاب تھے، جن کا تعلق مختلف شعبہ ہائے طب سے تھا۔
اداکارہ نے اپنے شوہر امان احمد کے ہمراہ ندا یاسر کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے ذاتی زندگی، زچگی کے تجربات اور والدین بننے کے بعد کی ذمہ داریوں پر کھل کر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے دوران انہیں کمردرد کی شدت کم کرنے کے لیے خصوصی انجکشن دیے گئے تھے، اور ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر وزن کم کرنے کے بجائے صبر اور آرام کا مشورہ دیا۔
مریم نفیس کا کہنا تھا کہ ماں جب بچے کو دودھ پلانا شروع کرتی ہے تو قدرتی طور پر وزن کم ہونے لگتا ہے اور وہ بھی اسی فطری طریقے سے وزن کم کریں گی، انہیں اس عمل میں کوئی جلدی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ موجود میڈیکل ٹیم نے بھی یہی تلقین کی تھی کہ وزن کم کرنے میں بے صبری نہ دکھائیں۔
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کے ہاں مارچ 2025 میں بیٹے "عیسیٰ” کی پیدائش ہوئی اور اس وقت برطانیہ میں ان کی مکمل طبی نگہداشت کے لیے 14 مختلف ماہرین پر مشتمل ٹیم موجود تھی، جو ان کی اور نومولود کی صحت کو مسلسل مانیٹر کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بہترین نظام کی بدولت انہیں زچگی کے دوران کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
بیٹے کی اسکولنگ کے حوالے سے ایک سوال پر مریم نفیس نے کہا کہ انہیں ابھی یہ علم نہیں کہ جب عیسیٰ اسکول جانے کے قابل ہوگا تو وہ کہاں ہوں گے، اس لیے اسکولنگ کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ البتہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ بیٹے کو ڈھائی سال کی عمر کے بعد ہی اسکول میں داخل کروائیں گی۔
مریم نفیس اور امان احمد کی شادی مارچ 2022 میں ہوئی تھی، اور تین سال بعد مارچ 2025 میں ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی۔






