پاکستانی خبریںسٹوری

حلال مزدوری کرنیوالے پشاور یونیورسٹی کے طالب علم اجمل کی ہمت و عزم کی داستان

خلیج اردو: تصویر میں نظر آنیوالا یہ جوان کبھی مجسٹریٹ کے سامنے کھڑا ہوتا کبھی پولیس والے اس کو دھکے دیتے کبھی دکاندار اس کو برا بھلا کہتے کیونکہ خدا کی یہ اتنی بڑی زمیں اس کےلئے تنگ ہوجایا کرتی تھی ۔ اس کا قصور اتنا تھا کہ یہ اپنی فروٹ کی ریڑھی لگاتا اور اپنے تعلیمی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کےلئے حلال مزدوری کرتا ۔ صبح یہ یونیورسٹی جاتا یونیورسٹی میں یہ بی ایس کا سٹوڈینٹ تھا ۔ اس نوجوان جس کا نام اجمل ہے کا کہنا ہے کہ اس نے اٹھ سمسٹر یعنی پورے چار سالوں میں یونیورسٹی سے ایک دن تو کیا ایک پیریڈ کی بھی چھٹی نہیں کی اور ہر سمسٹر میں امتیازی پوزیشن سے پاس ہوتا رہا ۔ شام ہوتے ہی وہ اپنی فروٹ ریڑھی کے ساتھ پشاور کی سڑکوں پہ ہوتا ، جہاں اسکی ریڑھی کےلئے جگہ نہیں  ہوتی تھی ۔ پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کے ساتھ آنکھ مچولی رہتی اور یہ دیکھتا کہ کہیں اس نے اپنی ریڑھی کسی دکان کے سامنے تو نہیں کھڑی کردی اور اگر کبھی ایسا ہوجاتا تو دکاندار کے قہر و غضب سے بچنا مشکل ہوجاتا ۔
اسے جگہ نہیں ملتی تھی کیونکہ اتنی بڑی دنیا کب کی تقسیم ہوچکی تھی اور اس میں اجمل کا حصہ نہیں تھا اپ سوچ نہیں سکتے کہ کس کرب اور تکلیف سے اجمل نے یہ چھ سال گزارے ہونگے ۔ اس کے وہ دوست جن کو اس کی اس حلال مزدوری کا پتہ تھا اس سے کہتے یار یہاں ریڑھی نہ لگایا کر ، یہاں کالج کے اساتذہ اور طلبہ طالبات آتے جاتے ہیں کوئی دیکھے گا تو ہنسے گا مگر اجمل ڈٹا رہا ۔ عین نیلسن منڈیلا کے اس قول کے مطابق کے “ دنیا میں کوئی بھی کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا البتہ کام کے طریقے چھوٹے اور بڑے ہوسکتے ہیں اور وہی طریقے اس کے چھوٹے اور بڑے ہونے کی کسوٹی ہے “
اس صبر آزما جنگ کے باجود کل اجمل نے اپنی بی ایس کی ڈگری پوری کی اور اپنی کہانی شئیر کی جس میں ان لوگوں کےلئے ایک سبق ہے جو بوجہ غربت اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے۔ اجمل نے دو سو سے زیادہ کتب خریدی ہیں اور اپنی چھوٹی سے لائبریری بھی بنا رکھی ہے ۔
وہ شاہ سعود کے اس شعر کے مانند ہے

“ هلته د تيارو سره په جنګ يم
چرته چې د لمر هم رڼا نه رسي "

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button