عالمی خبریںپاکستانی خبریں

بھارتی حملہ "آپریشن سندور” کی تفصیلات: حملے کی نوعیت، مقاصد اور اثرات

خلیج اردو
اسلام آباد: پاہلگام حملے کے بعد تیزی سے بگڑتے ہوئے پاک بھارت تعلقات کے دوران بھارتی فضائیہ نے 7 مئی کی رات "آپریشن سندور” کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے، جنہیں پاکستان نے بلااشتعال جارحیت قرار دیا ہے۔ پاکستانی انٹیلیجنس ذرائع پہلے ہی ایک ممکنہ حملے سے خبردار کر چکے تھے، جو اس رات حقیقت میں بدل گیا۔

بھارت کی وزارت دفاع نے اس کارروائی کو پاہلگام حملے کے ردعمل میں "درست اور محدود” اقدام قرار دیا، جبکہ پاکستان کی وزارت دفاع نے اس حملے میں کم از کم آٹھ شہریوں کی ہلاکت اور 35 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

آپریشن سندور کیا ہے؟
آپریشن کا نام "سندور” ہندو خواتین کے ماتھے پر لگائے جانے والے سرخ رنگ کے پاؤڈر سے ماخوذ ہے، جو شادی شدہ زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ان خواتین کی یاد میں ہے جنہوں نے پاہلگام حملے میں اپنے شوہر کھوئے۔

حملے کن علاقوں میں کیے گئے؟
بھارتی ذرائع کے مطابق، بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر کے 9 مقامات پر حملے کیے، جن میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ اور مظفرآباد شامل ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا ہدف دہشت گرد تنظیموں جیشِ محمد اور لشکر طیبہ کے مبینہ ٹھکانے تھے۔ تاہم، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تمام متاثرہ مقامات شہری علاقوں پر مشتمل تھے اور کوئی بھی فوجی یا عسکری ہدف نہیں تھا۔

حملے کے اثرات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں تین شہری جاں بحق ہوئے، تاہم بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ بتائی گئی جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ پاکستان نے بھارت پر اندھا دھند فائرنگ اور شیلنگ کا الزام لگایا جس کے نتیجے میں مزید شہری متاثر ہوئے۔

پاکستان کا ردعمل
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی حملے کو "بزدلانہ” اور "اشتعال انگیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ناقابل برداشت جارحیت ہے، جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ بھی تھما دیا۔

عالمی ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ لڑائی جلد ختم ہوگی، جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے دونوں ممالک سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے بھی جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور مزید تصادم سے بچنے پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button