خلیج اردو آن لائن:
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خوتین پر کیے جانے والے ٹو فنگر ٹیسٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
خیال رہے کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کا کنوارے پن کی جانچ کے لیے دو انگلیوں کے مدد سے یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جسے انگلش میں ٹو فنگر ورجینٹی ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔
آج لاہور ہائی کورٹ نے اس ٹیسٹ کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوے اس ٹیسٹ غیر قانونی قرار دے دیا ہے اورحکم دیا ہے کہ اسکا کوئی متبادل انتظام کیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت اس ٹیسٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے چکا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس ٹیسٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیسٹ متاثرہ خاتون کے وقار کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور اسی یہ ٹیسٹ حق زندگی اور حق احترام کے خلاف ہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے صدر پاکستان بھی دسمبر میں نئےریپ لاء میں ٹو فنگر ٹیسٹ پر پابندی کے لیے کہ چکے ہیں۔
تاہم لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد صوبہ پنجاب میں کنوارے پن کی جانچ کے لیے تمام اقسام کے ٹیسٹوں پر پابندی لگ جائی گی۔
Source: Khaleej Times







