( خلیج اردو ) پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور ایک نیا کیس سامنے آیا ہے جس میں ایک پروفیسر جو گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور میں فزکس پڑھاتے ہیں پر طالبات نے جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کر دیا ہے ۔
طالبات کے مطابق پروفیسر انہیں وڈیو کالز کرتا اور بے ہودگی کی حالت میں باتیں کرنے پر اسرار کرتا ۔ ایک طالبہ نے فون پر بات کرتے اس کی سکرین شاٹس نکال لی اور سوشل میڈیا پر شئیر کی ۔
سوشل میڈیا پر تصاویر شائع ہونے کے بعد کالج انتظامیہ حرکت میں آگئی اور انکوئری کمیونٹی کو تحقیقات کا حکم دیا گیا ۔ کمیٹی نے تحقیقات کی اور معلومات اکٹھا کئے اور رپورٹ تیار کرکے وی سی کھ سامنے پیش کردی ۔
تفصلات کے مطابق پروفیسر پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام طالبات نے خود لگایا جو تنگ ہوچکی تھی اور پروفیسر انہیں بار بار واٹس ایپ پر بات کرنے کا اسرار کرتا تھا ۔ طالبات کو کئی مرتبہ فیل کردیا گیا جس پر انہوں نے پروفیسر سے انتقام لینے کا پلان بنایا ۔
یاد رہے کہ کچھ دنوں پہلے کراچی میں ایک طالبہ نے کئی سالوں تک ڈگری نہ ملنے پر خودکشی کی تھی ۔
Source :Gulf News






