خلیج اردو آن لائن:
کورونا کے پاکستان میں داخل ہونے کے چھ ماہ بعد پاکستان بظاہر کورونا کے خوفناک اثرات سے بچ کر نکلتا محسوس ہو رہا ہے۔
کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ کے بعد اب گزشتہ کچھ ہفتوں سے ملک بھر میں نئے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اور کورونا کے باعث اموات میں بھی دن بدن کمی آتی جا رہی ہے۔ جبکہ پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت میں کورونا کے باعث سینکڑوں اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں کورونا کے کیسز کی کمی کیوں واقع ہو رہی اس کا واضح جواب ماہرین صحت بھی نہیں دے پا رہے۔ کیونکہ پاکستان کی تاریخ رہی کہ وہ جلد پھیلنے والی بیماریوں مثلا پولیو، ٹی بی اور ہیپاٹائٹس کو روکنےمیں ناکام رہا ہے۔
اور پاکستان کی شہری آبادی بہت گنجان ہونےکے باعث وائرل بیماریوں کو پھیلنے میں بہت آسانی رہتی ہے۔
اس سب کے باوجود کورونا کے پھیلاؤ میں کمی ایک موجذے سے کم نہیں۔
سروسز ہسپتال لاہور کے ڈاکٹر سلمان حسیب کا کہنا ہے” کوئی بھی کورونا کے کیسز میں کمی کی وجہ نہیں بتا سکتا۔۔۔ہمارے پاس کوئی ٹھوس وضاحت نہیں ہے”۔
تاہم پاکستانی کورونا کیسز میں اس کمی کی بہت ساری وجوہات بتاتے ہیں۔ مثلا پاکستان میں نوجوان آبادی کی تعداد بوڑھوں سے زیادہ اور ملک کا گرم موسم اس وبا کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوا ہے۔
پاکستان میں اوسط عمر 22 سال ہے جبکہ کورونا کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے یہ بوڑھے لوگوں کو زیادہ بری طرح متاثر کرتا ہے۔
اگر اسی مفروضے کو اٹلی کے ساتھ رکھ دیکھا جائے تو معلوم ہوتا کہ اٹلی کی وسطانیہ یا اوسط عمر تقریبا46 سال ہے اور اٹلی میں 35 ہزار کے قریب اموات ہوئیں۔ جبکہ پاکستان میں کورونا کے باعث اب تک ریکارڈ کی جانے والی اموات 6 ہزار 3 سو ہیں۔
پاکستان میں اب تک 2 لاکھ 95 ہزار کورونا کے مریض سامنے آئے ہیں اور ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی تعداد کچھ سو کے قریب ہے۔
تاہم۔ بعض ماہرین کا خیال کہ پاکستان چونکہ کورونا کے ٹیسٹ بہت کم کر رہا ہے لہذا ملک میں کورونا کیسز کی حقیقی تعداد بتائے جانے والے نمبروں سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے ایک ٹیسٹنگ سروے کے مطابق شہر کی تقریبا 7 فیصد آبادی کورونا سے متاثر ہو چکی ہے۔
لیکن ملک بھر کے کورونا کے لیے مختص ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بتاتی ہے کہ کورونا کے کیسز میں کمی واقع ہوئی ہے۔
نشتر ہسپتال ملتان کے ڈاکٹر خضر حیات نے کورونا کے کیسز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ” کورونا کے کیسز میں کمی کی وجوہات سے قطع نظر، اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں وائرس کی پہلی لہر تقریبا ختم ہو چکی ہے”۔ "اب صورتحال قابو میں ہے، لیکن یہ جاننا مشکل ہے کہ ایسا کیوں ہوا”۔
تاہم، وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اس کمی کی وجہ حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی بتاتی ہے۔
بہرحال وجہ کچھ بھی ہو پاکستان میں کورونا کے کیسز میں بظاہر کمی دیکھائی دے رہی ہے۔
اور اسی کمی کے پیش نظر حکومت پاکستان نے کورونا کےپھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی پابندیاں بھی ہٹا دی ہیں۔
پارک، بزار، شاپنگ مالز سمیت تمام سرگرمیاں بحال کر دی گئیں ہیں۔ لیکن لوگوں سے کورونا ایس او پیز یعنی بار بار ہاتھ دھونا، ماسک پہننا اور سماجی فصلہ برقرار رکھنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔
لیکن لوگ ان ایس او پیز پر عمل کرتے دیکھائی نہیں دیتے، جس کے باعث کورونا کی دوسری لہر کا خطرہ برقرار ہے۔
پاکستان کے مائیکروبیالوجسٹ حسن وسیم کا کہنا تھا کہ”لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے کورونا کو شکست دے دی ہے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کا امکان ابھی بھی موجود ہے”۔
Source: Gulf News/ AFP







