خلیج اردو
14 ستمبر 2020
سرگودھا: پاکستان کے صوبے پنجاب میں ایک بھائی نے اپنی بہن کو غیرت کے نام پرقتل کر دیا۔ مقتولہ کے شوہر نے پولیس میں رپورٹ درج کرا دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے 22 سالہ شخص کو اس کی بہن کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں غیرت کے نام پر یہ قتل اس وقت ہوا جب 30سالہ نگہت پروین نے چھٹی بار شادی کی۔ اس کے بھائی نے خاندان کا نام خراب کرنے پر مبینہ طور پر یہ اقدام اٹھایا۔
17 اگست کو نگہت کے شوہر وسیم امجد نے پولیس کے پاس شکایت درج کی تھی کہ اس کی بیوی اغوا ہوئی ہے جس کے بعد 11 ستمبر کو معلوم ہوا کہ نگہت کو اس کے بھائی نے غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔
پولیس نے اغوا کے واقعہ کے بعد ٹیکنالوجی کی مدد سے پروین کی آخری لوکیشن معلوم کی جس سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے والدین کے گھر ہے۔
پولیس نے نگہت پروین کے بھائئی عبداللہ ہاشمسے تفتیشن کی جس نے مبینہ طور پر پولیس کے سامنے اعتراف جرم کیا۔
عبداللہ نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ اس کی بہن پچھلے اٹھ سالوں سے خاندان کیلئے بدنامی کا سبب بن رہی ہے۔ اس کی بہن کے چال چلن کی وجہ سے لوگ ان کی غیرت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
مبینہ قاتل نے بتایا کہ چھٹی مرتبہ شادی کرکی اس کی بہن اپنے والدین کے گھر واپس آئی تھی اسی لیے میں نے انہیں کمرے میں بند کرکے فائرنگ کرکے قتل کیا۔
پولیس کے مطابق عبداللہ کو گرفتار کرکے آلہ قتل اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر درج کرکے قاتل کو عدالت پیش کیا جائے گا۔
مقامی میڈیا کی خبر کو ٹویٹر پر شیئر کرتے ہوئے ایک شہری نے پاکستان میں عورتوں کے خلاف متشدد رویوں میں اضافہ کا ذکر کیا ہے۔ محمد وجیح نام ہینڈلر نے لکھا ہے کہ ایک بھائی نے بہن کو شادی کرنے پر قتل کیا اور پھر لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ عورت مارچ کی کیا ضرورت ہے۔
A brother in Sargodha killed his sister for marrying the sixth time. Violence against women continues and then we ask why Aurat March takes place in this country. https://t.co/lQbPlmmpyb
— Muhammad Wajeeh (@muhammadwajeeh) September 12, 2020
Source: Gulf News






